خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 410
خطبات مسرور جلد 16 410 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے اور جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر رکھا ہے اور ہم میں آپس میں بہت نا اتفاقیاں ہیں۔ہم یثرب میں جا کر اپنے بھائیوں میں اسلام کی تبلیغ کریں گے۔کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو پھر جمع کر دے۔پھر ہم ہر طرح آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں گے۔چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 221-222) کہتے ہیں جی اسلام نے آکر پھوٹ ڈال دی!؟ اسلام کی وجہ سے آپس کی پھوٹ اور فساد جو تھے اس کے ختم ہونے کا اظہار ان لوگوں نے کیا اور پھر یہ ہو بھی گیا اور وہی لوگ جو آپس کے دشمن تھے بھائی بھائی بن گئے۔گزشتہ خطبہ میں بھی ایک میں نے ذکر کیا تھا کہ ان لوگوں کا آپس میں بھائی بھائی ہونا دشمن کی آنکھوں میں بڑا کھٹکتا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی لیکن پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے سے اور آپ کی قوت قدسی سے ایک بھائی چارے کی فضا دوبارہ پید اہوئی۔اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت قطبہ کا شمار ماہر تیر اندازوں میں ہوتا ہے۔آپ غزوہ بدر، اُحد ، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔غزوہ اُحد میں آپ جوانمردی سے لڑے۔اس روز آپ کو نو (9) زخم آئے۔فتح مکہ کے موقع پر بنو سلمہ کا جھنڈا آپ ہی کے ہاتھ میں تھا۔غزوہ بدر میں حضرت قطبہ کی ثابت قدمی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے دو صفوں کے درمیان ایک پتھر رکھا اور کہا کہ میں اس وقت تک نہیں بھاگوں گا جب تک یہ پتھر نہ بھاگے یعنی شرط لگا دی کہ میری جان جائے تو جائے میدان چھوڑ کر میں نے نہیں بھاگنا۔ان کے بھائی یزید بن عامر تھے جو ستر انصار کے ساتھ عقبہ میں شامل ہوئے تھے۔حضرت یزید بدر اور اُحد میں بھی شریک ہوئے اور ان کی اولاد مدینہ اور بغداد میں بھی تھی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 294 قطبه بن عامر و اخوه یزید بن عامر مطبوعه دار احياء التراث العربي بیروت 1996ء) ابو حاتم سے مروی ہے کہ حضرت قطبہ بن عامر نے حضرت عمر کے دور خلافت میں وفات پائی۔جبکہ ابن حبان کے نزدیک انہوں نے حضرت عثمان کے دور خلافت میں وفات پائی۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 5 صفحه 338 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) تیسرے صحابی جن کا ذکر ہو گا وہ ہیں حضرت شجاع بن وہب جو وہب بن ربیعہ کے بیٹے تھے۔ان کی وفات جنگ یمامہ میں ہوئی۔آپ کو شجاع بن ابی وہب بھی کہا جاتا ہے۔آپ کا خاندان بنو عبد شمس کا حلیف تھا۔آپ طویل القامت پتلے جسم والے اور نہایت گھنے بالوں والے تھے۔حضرت شجاع کا شمار ان بزرگ صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے ابتداء ہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک کہا تھا۔بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ سال بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء پر مہاجرین حبشہ کے دوسرے قافلہ میں شریک ہو کر حبشہ چلے گئے تھے۔کچھ عرصہ بعد یہ افواہ سن کر کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں حضرت شجاع حبشہ سے واپس مکہ آگئے۔کچھ مدت بعد حضور