خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 409

خطبات مسرور جلد 16 409 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 انہوں نے کہا کہ میں ڈرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ لیں گے تو بچہ سمجھ کر واپس بھیج دیں گے۔میں جنگ کے لئے جانا چاہتا ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا فرما دے۔پس جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوٹا سمجھ کر واپس جانے کا ارشاد فرمایا تو عمیر رونے لگ گئے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 79 عمير بن ابی وقاص مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) ان کی تلوار بڑی تھی۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کی تلوار کی نیام باندھی۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 4 صفحه 603 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) حضرت عمیر بن ابی وقاص غزوہ بدر میں جب شہید ہوئے اس وقت آپ سولہ سال کے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 79 عمير بن ابی وقاص مطبوعه دار احياء التراث العربى بيروت 1996ء) سولہ سال کی عمر بھی ایسی تھی جس میں قد کاٹھ بیشک چھوٹا ہو گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عموماً بچوں کو جنگ کی اجازت نہیں دی۔دوسرے صحابی جن کا ذکر ہو گا وہ ہیں حضرت قطبہ بن عامر۔یہ انصاری تھے۔عامر بن حدیدۃ کے بیٹے تھے۔ان کی وفات حضرت عثمان کے دور خلافت میں ہوئی۔ان کی والدہ کا نام زینب بنت عمرو ہے۔آپ کی اہلیہ کا نام حضرت ام عمر و ہے جن سے ایک بیٹی حضرت اُتم جمیل ہیں۔بیعت عقبہ اولی اور ثانیہ دونوں میں ہی شامل ہوئے اور آپ اُن چھ انصار صحابہ میں سے ہیں جو مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ان سے قبل انصار میں سے کوئی مسلمان نہ ہوا تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 3صفحه 294 قطبه بن عامر مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء) ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ سیرت خاتم النبیین میں اس طرح لکھا ہے کہ گیارہ نبوی کے ماہ رجب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں یثرب والوں سے یعنی مدینہ والوں سے پھر ملاقات ہو گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب و نسب پوچھا تو معلوم ہوا کہ قبیلہ خزرج کے لوگ ہیں اور یثرب سے آئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت محبت کے لہجے میں کہا کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں۔آپ کیا کہتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن شریف کی چند آیات سنا کر اپنے مشن سے آگاہ کیا۔ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ موقع ہے ایسانہ ہو کہ یہود ہم سے سبقت لے جائیں اور یہ کہہ کر سب مسلمان ہو گئے۔یہ چھ اشخاص تھے جن کے نام یہ ہیں۔ابو امامہ اسعد بن زرارہ جو بنو نجار سے تھے اور تصدیق کرنے میں سب سے اول تھے۔عوف بن حارث یہ بھی بنو نجار سے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کے ننھیال کا قبیلہ تھا۔رافع بن مالک جو بنوزریق سے تھے۔جو قرآن شریف نازل ہو چکا تھا وہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عطا فرمایا۔قطبہ بن عامر جو بنی سلمہ سے تھے اور عقبہ بن عامر جو بنی حرام سے تھے اور جابر بن عبد اللہ بن رئاب جو بنی عبید سے تھے۔اس کے بعد یہ