خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 408

خطبات مسرور جلد 16 408 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 31 / اگست 2018ء بمطابق 31 / ظهور 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت عمیر بن ابی وقاص ایک بدری صحابی تھے جن کی ولدیت ابو و قاص مالک بن اُھیب تھی۔ان کی شہادت غزوہ بدر 2 ہجری میں ہوئی۔حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے چھوٹے بھائی تھے اور ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔آپ کی والدہ کا نام حمنہ بنت سفیان تھا۔آپ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنوزھرہ سے تھا اور جیسا کہ ذکر ہوا بدر کی جنگ میں انہوں نے شرکت کی اور وہیں ان کی شہادت ہوئی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمیر اور عمرو بن معاذ کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔(الاستيعاب جلد 3 صفحه 294 عمير بن ابی وقاص مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء)،(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 79 عمير بن ابی وقاص مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) بعض کا خیال ہے کہ حضرت عمیر بن ابی وقاص اور حضرت خبیب بن عدی کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔( عيون الاثر جلد اوّل صفحه 232 باب ذكر المؤاخات مطبوعة دار القلم بيروت 1993ء) ان کی شہادت کے واقعہ کا اور جنگ بدر میں شامل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ مدینہ سے تھوڑی دور نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈیرہ ڈالنے کا حکم دیا اور فوج کا جائزہ لیا۔کم عمر بچے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کے شوق میں ساتھ چلے آئے تھے ان کو واپس بھیجا گیا۔سعد بن ابی وقاص کے چھوٹے بھائی عمیر بھی چھوٹی عمر کے تھے۔کمسن تھے۔انہوں نے جب بچوں کی واپسی کا حکم سنا تو لشکر میں اِدھر اُدھر چھپ گئے لیکن آخر ان کی باری آئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی واپسی کا حکم دیا۔یہ حکم سن کر عمیر رونے لگ گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کے غیر معمولی شوق کو دیکھ کر انہیں بدر میں شامل ہونے کی اجازت دی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 353) تاریخ کی ایک اور کتاب میں ان کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قبل اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی جانب روانہ ہونے کے لئے ہمارا معائنہ فرماتے میں نے اپنے بھائی عمیر بن ابی وقاص کو دیکھا کہ وہ چھپتے پھر رہے تھے۔اس پر میں نے ان سے پوچھا اے بھائی تمہیں کیا ہوا ہے؟