خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد 16 407 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 تَكْفُرُونَ وَاَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ أَيْتُ اللهِ وَفِيْكُمْ رَسُولُهُ وَمَنْ يَعْتَصِمُ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِى إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - (آل عمران: 101-102) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم نے ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی کسی گروہ کی اطاعت کی تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد ایک دفعہ پھر کافر بنا دیں گے اور تم کیسے انکار کر سکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجو د ہے اور جو مضبوطی سے اللہ کو پکڑ لے تو یقیناًوہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیا گیا ہے۔(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد جلد3 صفحه 398-399، جماع ابواب بعض امور دارت بين رسول الله الله و بين اليهود والمنافقين الباب السابع في ارادة شأس بن قيس۔۔۔۔دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) بہر حال یہ حالت تھی ان صحابہ کی۔ایک وقت میں شیطان کے دھو کہ میں تو آگئے لیکن جب احساس دلایا گیا، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ کیوں جہالت میں واپس جارہے تھے تو فوراًند امت پیدا ہوئی اور صلح کی طرف قدم بڑھایا بلکہ محبت اور بھائی چارے کا اظہار کیا۔تو یہ ان کے نمونے تھے۔اب جو لوگ ذرا ذرا سی بات پر جھوٹی غیر توں اور اناؤں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کے لئے بھی یہ ایک عظیم اسوہ ہے۔اگر وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے جنگیں کرنے والے بھائی بھائی بن گئے تو اب ایک کلمہ پڑھنے والے بلکہ ایک جماعت میں پیدا ہونے والے لوگ کیوں اپنی اناؤں کو ختم نہیں کر سکتے۔بہت سارے معاملات ایسے آتے ہیں کہ جھوٹی اناؤں کی وجہ سے رنجشیں چلتی ہیں، مہینوں سالوں چلتی ہیں۔بعض نوجوان لکھتے ہیں کہ اب جو نئی نسل ہے وہ ایک دوسرے سے رشتے قائم کرنا چاہتی ہے تو ہمارے خاندانوں کی رنجشوں کی وجہ سے، اپنے بزرگوں کی وجہ سے، اپنے بڑوں کی وجہ سے ، بزرگ تو نہیں کہنا چاہئے ، بڑوں کی وجہ سے وہ رشتے قائم نہیں ہوتے۔ان لوگوں کو عقل کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تعلیم دی ہے یہی محبت اور پیار کی تعلیم دی ہے۔اکائی کی تعلیم دی ہے اور ایک قوم بنایا ہے، ہمیں ایک قوم بن کے رہنا چاہئے اور جھوٹی اناؤں میں دوبارہ ڈوبنا نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو عقل دے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے یہود کو خیبر سے نکالا تو خود انصار و مہاجرین کو ساتھ لے کر جن میں حضرت جبار بن صخر اور حضرت یزید بن ثابت بھی تھے خیبر کے لئے روانہ ہوئے۔یہ دونوں حضرات خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگانے جایا کرتے تھے اور ان دونوں آدمیوں نے اسی تقسیم کے مطابق جو پہلے سے تھی ہر ایک کا علیحدہ کر دیا۔وادی قریٰ کی تقسیم میں حضرت عمر نے جہاں دیگر اصحاب کو حصہ دیا وہاں ایک حصہ حضرت جبار بن صخر کو بھی دیا گیا۔(السيرة النبوية لابن هشام جلد 3 صفحه 639 ، امر فدك فى خبر خيبر المكتبه العصريه بيروت 2011ء) تو یہ تھے ان صحابہ کے بعض حالات۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 14 ستمبر 2018 ء تا 20 ستمبر 2018، جلد 25 شماره 37 صفحہ 09105)