خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 406
خطبات مسرور جلد 16 406 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 نہیں ہو سکتا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ جو دشمنیاں ہیں وہ دوستیوں میں بدل جائیں بلکہ محبت اور پیار میں بدل جائیں۔اس نے ایک یہودی جو ان کو جو اس کے ساتھ تھا اس کام پر لگایا کہ ان کے پاس جا کر ان کے ساتھ بیٹھے اور جنگ بعاث اور اس سے پہلے کے حالات کا ذکر چھیڑے اور انہیں وہ شعر سنائے جو یہی لوگ اور دو مختلف قبیلے ایک دوسرے کے خلاف کہا کرتے تھے۔پس اس نے ایسا ہی کیا اور ایک قبیلے نے جنگ میں جو دوسرے قبیلے کے خلاف اشعار کہے تھے ان میں سے بعض پڑھے۔اس بات نے گویا ان کے سینوں میں آگ بھڑ کا دی۔دوبارہ وہی جاہلیت کا شعر سن کر جاہلیت کا زمانہ ان پر عود کر آیا۔اس پر دوسرے قبیلے والوں نے کہا کہ ہمارے شاعر نے اس دن ایسے ایسے کہا تھا اس نے بھی وہی جاہلانہ شعر پڑھ دیئے۔پھر پہلے قبیلے والوں نے کہا کہ ہمارے شاعر نے اس دن ایسے ایسے کہا تھا۔پس وہ سب آپس میں ایک وقت تھا کہ محبت اور پیار سے بیٹھے باتیں کر رہے تھے لیکن اس فتنہ کی وجہ سے آپس میں تلخ کلامی کرنے لگے، جھگڑنے لگے اور تفاخر کرنے لگے یہاں تک کہ ان میں سے دوافراد حضرت اوس بن قیظی اور حضرت جبار بن صخر باہم الجھ پڑے۔ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم ابھی جنگ کا آغاز کر دیتے ہیں۔یہاں تک نوبت آگئی کہ دونوں فریق غصہ میں آکر لڑائی کی جگہ مقرر کرنے لگے اور زمانہ جاہلیت کے دعوے کرنے لگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی خبر پہنچی تو آپ اوس اور خزرج کے پاس آئے۔آپ کے ساتھ مہاجرین صحابہ کرام تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔کیا تم اب بھی جاہلیت والے دعوے کرتے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور اللہ نے تمہیں اسلام کی طرف ہدایت دے دی ہے اور اس کے ذریعہ تمہیں عزت بخشی اور تم سے جاہلیت کا معاملہ ختم کر دیا۔تمہیں کفر سے بچا لیا ہے اور تم میں باہم الفت ڈال دی ہے۔کیا تم پہلے کی طرح کفر میں لوٹنے لگے ہو۔صحابہ کرام کو پتہ چل گیا کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے اور ان کے دشمن کی چال ہے۔پس انہوں نے اپنے ہتھیار پھینکے اور رونے لگ گئے اور اوس اور خزرج کے افراد آپس میں گلے ملنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سر تسلیم خم کئے اطاعت کا دم بھرتے واپس آگئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن شاس بن قیس کی لگائی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔اس پر یہ آیت بھی اتری کہ قُلْ يَاهْلَ الْكِتبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأَيْتِ اللهِ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (آل عمران: 99-100) کہ ان سے کہہ دے اے اہل کتاب ! کیوں تم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو جبکہ اللہ اس پر گواہ ہے جو تم کرتے ہو۔اور کہہ دے اے اہل کتاب! تم اسے جو ایمان لایا ہے اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو یہ چاہتے ہوئے کہ اس راہ میں کبھی پیدا کر وجب کہ تم حقیقت پر گواہ ہو اور اللہ اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔حضرت اوس بن قیظی اور حضرت جبار بن صخر اور جو اُن کے ساتھی تھے جنہوں نے شاس کے بہکاوے میں آکر جاہلیت کے زمانے کی طرح کا مظاہرہ کیا تھا ایسے لوگوں کے بارے میں بھی پھر یہ حکم نازل ہوا کہ یایھا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيْعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ كَفِرِيْنَ وَكَيْفَ