خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 405
خطبات مسرور جلد 16 405 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 آپ نے یہ دعا کی کہ تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی جناب سے میری دعا قبول فرمائی۔یہ بڑا شدید دشمن تھا۔اس کے لئے آپ نے اللہ تعالیٰ کو کہا تھا میرے لئے کافی ہو جا۔اللہ تعالیٰ نے پھر اس کے قتل کے سامان پیدا کئے۔(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد جلد 4 صفحه 49 غزوة بدر الكبرى ، ذكر رمی رسول الله الله الكفار بالحصباء۔۔۔۔۔دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو ہر شخص کو خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر قیام کریں۔اس کے بارے میں بہت سارے حوالے آتے ہیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں میری اونٹنی بیٹھے گی وہیں میرا قیام ہو گا۔جب اونٹنی مدینہ کی گلیوں سے گزری تو ہر شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہماری طرف قیام کریں۔لیکن آپ یہی فرماتے تھے کہ اس کا راستہ چھوڑ دو اس کو حکم دیا گیا ہے۔یعنی اللہ کی مرضی سے یہ خود ہی بیٹھے گی۔یہاں تک کہ آپ کی اونٹنی چلتے چلتے جہاں اب مسجد نبوی کا دروازہ ہے اس جگہ پہنچی اور مسجد کے دروازے والی جگہ پر بیٹھ گئی۔جب اونٹنی بیٹھ چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔آپ ابھی اونٹنی پر ہی تشریف فرما تھے کہ پھر وہ اونٹنی اٹھی اور تھوڑا آگے گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نکیل چھوڑی ہوئی تھی۔پھر وہ اونٹنی دوبارہ وہیں آکر بیٹھ گئی اور اپنی گردن زمین پر رکھ دی۔اس موقع پر حضرت جبار بن صخر اس امید پر کہ اونٹنی بنو سلمہ کے محلے میں جاکر ٹھہرے اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ نہ اٹھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور فرمایا کہ انشاء اللہ یہاں ہمارا قیام ہو گا اور آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔وَقُل رَّبِّ انْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبْرَكًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِینَ۔(المؤمنون: 30) کہ اے میرے رب! تو مجھے ایک مبارک اترنے کی جگہ پر اتار اور تو اتار نے والوں میں سے سب سے بہتر ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون سب سے قریب ہے۔حضرت ابوایوب انصاری نے عرض کیا کہ میں یارسول اللہ ! یہ میراگھر ہے۔یہ میر ادروازہ ہے اور ہم نے آپ کا کجاوہ اندر رکھ دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ چلو اور ہمارے آرام کرنے کی جگہ تیار کرو۔پس وہ گئے اور آپ کے آرام کرنے کی جگہ تیار کی۔(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد جلد 3 صفحه 272-273 جماع ابواب الهجرة الى المدينة الشريفة الباب السادس فى قدومه عليها الله۔دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) شاس بن قیس ایک عمر رسیدہ شخص تھا اور سخت کا فر تھا۔مسلمانوں سے سخت شدید کینہ اور بغض رکھتا تھا۔اس کا گزر مسلمانوں کی ایک جماعت پر ہوا جو مجلس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔جب اس نے ان کی باہمی الفت، اتحاد اور آپس کی صلح کاری دیکھی کہ یہ بیٹھے ہوئے ہیں اور جنسی خوشی پیار اور محبت سے باتیں کر رہے ہیں۔صلح کی جو یہ فضا تھی یہ جاہلیت کی دشمنی کے بعد اسلام کی بدولت انہیں حاصل ہوئی تھی۔اس سے پہلے ان لوگوں کی دشمنیاں تھیں۔لیکن اسلام کی بدولت انہیں یہ صلح کی، باہمی الفت اور پیار اور محبت کے سلوک کی توفیق ملی تو کہتے ہیں وہ ایسی بات کو دیکھ کے غضبناک ہو گیا کیونکہ جب وہ مسلمان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ملا دیا۔شاس بن قیس نے کہا کہ بنو قیلہ کے سردار اس علاقے میں بیٹھے ہیں۔جب تک ان کے سر دار آپس میں اکٹھے ہیں ہمیں قرار نصیب