خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 404

خطبات مسرور جلد 16 404 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 خَارِص ( یعنی کھجوروں کی پیداوار کا اندازہ کرنے والا ) بنا کر خیبر وغیرہ بھیجا کرتے تھے۔ان کی وفات حضرت عثمان کے دور خلافت میں تیس ہجری میں مدینہ میں ہوئی۔وفات کے وقت آپ کی عمر 62 سال تھی۔حضرت بخبار غزوہ بدر، احد ، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمرکاب تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جز 3 صفحه 293 ومن بني عبيد بن عدى۔۔۔۔، داراحياء التراث العربي بیروت1996ء(المعجم الكبير للطبراني جلد 2 صفحہ 270 جبار بن صخر، طبع ثانی داراحیاء التراث العربی بیروت) حضرت جبار بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ مکہ کی طرف جارہے تھے کہ کون ہم سے پہلے انشائیہ مقام پر جائے اور ہمارے پہنچنے تک اس کے حوض کے سوراخوں کو مٹی سے درست کر کے اور اسے فراخ کر کے اس میں پانی بھر دے گا۔ابو اونیس ایک راوی کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روانہ فرمایا تھا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت جبار نے بیان کیا کہ اس پر میں کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ میں یہ خدمت سر انجام دوں گا۔آپ نے فرمایا جاؤ۔پس میں انثا یہ پہنچا اس کے حوض کو مرمت کر کے اسے کھلا کیا اور اسے بھر دیا۔پھر مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا اور مجھے نہیں جگایا مگر اس شخص نے جس کی اونٹنی اس سے چھوٹی جارہی تھی۔(یعنی کہ بہت تیز وہاں پر پہنچی) اور وہ اسے حوض پر جانے سے روک رہا تھا۔(اونٹنی پانی کی طرف جارہی تھی)۔اس شخص نے مجھے کہا اے حوض والے ! اپنے حوض پر پہنچو تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میں نے عرض کیا جی۔یہ بیان کرتے ہیں کہ پھر حضور نے اپنی سواری کو گھاٹ پر اتارا۔پھر آپ مڑے اور سواری کو بٹھایا۔پھر آپ نے فرمایا برتن لے کر میرے ساتھ آؤ۔میں برتن لے کر آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو فرمایا۔میں نے بھی آپ کے ساتھ وضو کیا پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔وہاں پہنچنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام یہ فرمایا کہ وضو کیا اور نفل ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔کہتے ہیں کہ میں بائیں طرف کھڑا ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا۔یعنی آنحضرت کے نفل پڑھتے ہوئے انہیں یہ خیال آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نفل پڑھنے چاہئیں تو یہ بائیں طرف کھڑے ہو گئے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا ہاتھ پکڑ کے دائیں طرف کر دیا کہ جب باجماعت نماز ہو رہی ہو اور دو شخص ہوں تو دوسرے کو امام کے دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔کہتے ہیں پس ہم نے نماز پڑھی اور ابھی ہم نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ باقی لوگ بھی آگئے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 330 اول مسند المكيين والمدنيين حديث جبار بن صخر عن النبي حدیث نمبر 15550 عالم الكتب بيروت 1998ء) غزوہ بدر کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اللَّهُمَّ الْفِنِي نَوْفَلَ ابْنَ خُوَيْلِهِ کہ اے اللہ ! نوفل بن خویلد جو کہ قریش مکہ کے مشرکین کا ایک سردار تھا، کے مقابل میرے لئے کافی ہو جا۔حضرت جبار بن صخر نے اسے قیدی بنایا ہوا تھا اور حضرت علی اس کے پاس آئے اور اسے قتل کر دیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کسی کو نوفل کی کچھ خبر ہے ؟ حضرت علی نے عرض کیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس پر