خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 403

خطبات مسرور جلد 16 403 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 اس میں بھی بڑی حکمت ہے کئی قسم کے بیکٹریا ہوتے ہیں جس سے انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔آجکل تو ٹشو اور پانی کا رواج ہے لیکن اس زمانے میں جنگلوں میں پتھر اور ہڈیاں وغیرہ استعمال کی جاتی تھیں جس سے آپ نے منع فرمایا۔جیسا کہ پہلے حضرت علیؓ کے ضمن میں ذکر ہو چکا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری تلوار نے آج کمال کر دیا تو حضرت عاصم بن ثابت اور سہل بن حنیف کے بارے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا کہ ان کی تلواروں نے بھی آج کمال کیا ہے۔جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی گئی تب بھی سہل جو تھے وہ ان کے ساتھ تھے۔جب حضرت علی بصرہ کے لئے روانہ ہوئے تو حضرت سہل کو اپنا قائمقام مقرر فرمایا۔آپ حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شامل ہوئے۔حضرت علی نے آپ کو بلاد فارس کا والی مقرر فرمایا لیکن وہاں کے لوگوں نے آپ کو نکال دیا جس پر حضرت علی نے حضرت زیاد کو بھیجا جن سے اہل فارس راضی ہوئے اور مصالحت کی اور خراج ادا کیا۔نکال اس لئے نہیں دیا تھا کہ نعوذ باللہ آپ کوئی غلط کام رہے تھے بلکہ مختلف طبائع ہوتی ہیں۔ہر ایک انسان کی مختلف خصوصیات ہوتی ہیں اس لحاظ سے حضرت زیاد اہل فارس کو بہتر رنگ میں قابو کر سکے اور پھر ان سے مصالحت بھی ہو گئی اور خراج وغیرہ بھی وصول کیا۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحه 223 دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) حضرت سہل بن حنیف کی وفات جنگ صفین سے واپسی پر کوفہ میں 38 ہجری میں ہوئی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت علی نے پڑھائی۔حضرت حنش بن معمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سہل بن حنیف کی وفات ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے میدان میں تشریف لائے۔حضرت علی نے نماز جنازہ میں چھ تکبیرات کہیں۔یہ بات کچھ لوگوں کو ناگوار گزری۔اس پر آپ نے لوگوں کو کہا کہ حضرت سہل بدری صحابی ہیں۔جب ان کا جنازہ جہانہ کے مقام پر پہنچا تو حضرت قرہ بن کعب اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ہمیں ملے۔انہوں نے حضرت علی کی خدمت میں عرض کیا کہ یا امیر المومنین! ہم حضرت سہل کی نماز جنازہ میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔اس پر حضرت علی نے انہیں آپ کی نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت دی۔پس انہوں نے حضرت قرظہ کی امامت میں حضرت سہل کی نماز جنازہ ادا کی۔(المستدرك على الصحيحين جلد 4 صفحه 124 ذكر مناقب سهل بن حنیف حدیث 5827 دارالفکر بيروت 2002ء) الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 248 و من بنى حنش بن عوف۔۔۔۔سهل بن حنيف، دار احياء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء) تیسرے صحابی جن کا ذکر ہو گا وہ حضرت بہار بن صخر ہیں۔صخر بن امیہ کے بیٹے تھے۔حضرت جبار ستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بخبار اور حضرت مقداد بن عمرو کے درمیان مواخات قائم کی۔غزوہ بدر کے وقت ان کی عمر 32 سال تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں