خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 402

خطبات مسرور جلد 16 402 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کار سول ہوں اور اللہ مجھے ہرگز کبھی ضائع نہیں کرے گا۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی کچھ کہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ان کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔پھر بخاری نے ہی لکھا ہے۔وہ آگے حدیث لکھتے ہیں کہ پھر سورۃ فتح نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو آخر تک پڑھ کر سنائی۔حضرت عمر نے کہا کہ یار سول اللہ ! کیا یہ فتح ہے۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔(صحيح البخارى كتاب الجزيه باب اثم من عاهد ثم غدر حديث 3182) اس حدیث کی شرح میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "صفین عراق اور شام کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کا مقابلہ ہوا اور جب حضرت معاویہ کی فوج کے لوگوں کو یہ محسوس ہوا کہ ان کو شکست ہونے لگی ہے۔تو انہوں نے قرآن مجید کو اونچا کیا اور کہا کہ قرآن مجید کو محکم بنا کر فیصلہ کیا جائے۔چنانچہ اس پر جنگ بند ہو گئی۔" حضرت علی کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ہو گیا۔" بعض لوگوں کی طرف سے جنگ بندی پر اعتراضات بھی ہوئے۔" حضرت سہل حضرت علی کی طرف سے شریک تھے۔"حضرت سہل بن حنیف صحابی نے ان سے کہا اتهموا أَنْفُسَكُمْ۔اپنی رائے ہی کو نہ درست سمجھو کیونکہ اس سے قبل صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمر کو بھی غلط فہمی پیدا ہوئی لیکن آخر واقعات نے بتادیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت اور ایفائے عہد کو برکت دی گئی اور آپ خطرہ سے محفوظ ہو گئے۔" تو کہتے ہیں پھر آپ نے کہا کہ "لوگ جس بات کو کمزوری اور ذلت پر محمول کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو قوت و عزت کا باعث بنا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹی بڑی بات میں معاہدہ کی نگہداشت ملحوظ ر کھی ہے۔" (شرح صحیح البخاری از حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جلد 5 صفحہ 543 کتاب الجزيه حديث 3183) گو یہاں تو دھو کہ ہوا اور وہ نتائج نہیں نکلے لیکن مومن کو ہمیشہ حسن ظن رکھنا چاہئے اور جو معاہدے اللہ تعالیٰ کے نام پر کئے جانے کی کوشش کی جائے تو ساری چیزیں دیکھ کر اسے کر لینا چاہئے یہی مومنانہ شان ہے۔لیکن بہر حال دوبارہ دھو کہ نہیں کھانا چاہئے۔وہاں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا بھی دیا تھا۔اسی کو بیان کرتے ہوئے حضرت سہل نے یہ کہا کہ اگر معاہدہ ہو رہا ہے ، جنگ بندی ہو رہی ہے تو ہمیں بھی صلح حدیبیہ والے واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے صلح کر لینی چاہئے۔حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم مکہ کی طرف میرے پیامبر ہو۔پس تم جا کر انہیں میر اسلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تین باتوں کا حکم دیتے ہیں۔اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ۔باپ دادا کی قسمیں کھانا منع ہے۔گناہ ہے۔جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ رخ کر کے نہ بیٹھو۔شمالاً جنوبا بیٹھنا چاہئے۔اسی طرح تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ ہڈی اور گوبر سے استنجانہ کرو۔(المستحرك على الصحيحين جلد 4 صفحہ 127 ذکر مناقب سهل بن حنیف، حدیث 5837 دارالفکر بيروت 2002ء)