خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 401
خطبات مسرور جلد 16 401 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 حضرت حباب بن مُنذر اور دوسرا حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور تیسرا حضرت عباد بن بشر کو سونپا۔اس لڑائی کے نتیجہ میں یہ سارا علاقہ مسلمانوں کے زیر نگیں آگیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فتح عطا فرمائی اور یہاں سے اللہ تعالیٰ نے کثیر مال عطا فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں چار دن قیام فرمایا۔صحابہ میں غنائم تقسیم فرمائے۔یہاں کی زمین اور باغات یہود کے پاس رہنے دیئے۔باوجو د فتح کرنے کے زمین اور باغات جو تھے ان لوگوں کے پاس ہی رہنے دیئے مگر اپنی طرف سے ان پر ایک عامل مقرر فرما دیا۔تو یہ ہے دشمن سے بھی حسن سلوک کی اعلیٰ مثال کہ ملکیت ان کے پاس ہی رہی اور ان سے کچھ ٹیکس یا حصہ وصول کیا جاتا تھا۔اس زمانے کے رواج کے مطابق اگر ایسے دشمن کے مال اور جائیداد پر قبضہ بھی کر لیا جاتا تو حرج نہیں تھا۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا۔( شرح زرقانی على مواهب اللدنيه جلد 3 صفحہ 301 تا 303 دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) (امتاع الاسماع جلد 1 صفحہ 325-326 غزوة وادى القرى دار الكتب العلمية بيروت 1999ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی کتاب میں سیرت خاتم النبیین میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب شام کا ملک فتح ہوا اور وہاں کی عیسائی آبادی اسلامی حکومت کے ماتحت آگئی تو ایک دن جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے کسی شہر میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس سے ایک عیسائی کا جنازہ گزرا۔یہ دونوں اصحاب اس کی تعظیم میں کھڑے ہوئے۔ایک مسلمان نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحبت یافتہ نہیں تھا اور ان اخلاق سے نا آشنا تھا جو اسلام سکھاتا ہے یہ دیکھ کر بہت تعجب کیا اور حیران ہو کر سہل اور قیس سے کہا کہ یہ تو ایک ذقی عیسائی کا جنازہ ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ہم جانتے ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ آپ غیر مسلموں کے جنازے کو دیکھ کر بھی کھڑے ہو جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ کیا ان میں خدا کی پیدا کی ہوئی جان نہیں ہے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبيين مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 656-657) پس یہ ہے ایک طریق انسانیت کے احترام اور مذاہب کے درمیان نفرتیں ختم کرنے کا جس کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور وہی اسوہ حسنہ پھر صحابہ نے بھی اپنایا۔ابو وائل سے روایت ہے کہ ہم صیفین میں تھے کہ حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اے لوگو! اپنے آپ کو ہی غلطی پر سمجھو کیونکہ ہم حدیبیہ کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اگر ہم مقابلہ کی صورت دیکھتے تو ضرور مقابلہ کرتے۔اتنے میں حضرت عمر بن خطاب آئے۔( یعنی حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے ) اور انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ کا فر باطل پر ؟ تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔تو انہوں نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں نہیں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہم حدیبیہ کے دن جو صلح کر رہے ہیں تو اپنے دین سے متعلق ایسی ذلت کیوں برداشت کریں۔کیا ہم یہاں سے یو نہی لوٹ جائیں یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔آپ صلی