خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 32
خطبات مسرور جلد 16 32 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 انتہائی باریک بینی سے فرائض کی ادائیگی سے متعلق کہتے ہیں کہ میں ایک چھوٹاسا واقعہ بیان کرتا ہوں جو میرے ذہن پر ان کی عظیم شخصیت کے ان مٹ نقوش چھوڑ گیا ہے۔کہتے ہیں کہ غالباً 2015ء کے اوائل کی بات ہے میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو غریب خواتین جن کا ضلع خوشاب سے ہی تعلق تھا میرے پاس آئیں اور کہا کہ ہمیں میاں صاحب نے، ناظر اعلیٰ صاحب نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ہماری امداد کی درخواست پر امیر ضلع کی سفارش اور دستخط کر دیں۔کہتے ہیں میں نے ان خواتین سے جب ان کی بات سنی، انٹر ویو لیا تو یہ فیصلہ کیا کہ ان کی امداد ہم ضلعی سطح پر کر دیں گے بجائے اس کے کہ مرکز کو بھیجا جائے اور ان دونوں کو اپنے ضلع کے سیکر ٹری امور عامہ کے پاس بھجوا دیا اور ان کی امداد بھی ہو گئی۔کہتے ہیں کہ دوسرے دن خاکسار اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ میاں صاحب کا براہ راست فون آگیا اور مجھ سے استفسار کیا کہ کل آپ کے پاس آپ کے ضلع کی دو غریب عور تیں دستخط اور سفارش کے لئے بھجوائی تھیں وہ آج دوسرے دن بھی میرے پاس امداد لینے واپس نہیں آئیں اور مجھے بے چینی ہے کہ آپ نے انہیں واپس نہ بھجوادیا ہو۔لہذا ان کی سفارش کر کے میرے پاس بھجوائیں تاکہ ان کی امداد بر وقت ہو سکے۔کہتے ہیں اس پر میں نے عرض کیا کہ چونکہ ہم نے ضلعی سطح پر ان کی امداد کر دی تھی لہذا آپ کے پاس دوبارہ نہ بھجوایا۔امیر صاحب لکھتے ہیں کہ اس چھوٹے سے واقعہ سے آپ کی غریب پروری اور خدمت خلق اور چھوٹے چھوٹے امور کا خیال رکھنا آپ کی بڑی شخصیت کے لئے ایک معمولی ساخراج تحسین ہے۔یہ احساس ہے جو ہمارے ہر عہدیدار میں پیدا ہونا چاہئے کہ کس طرح کام کرتا ہے۔صرف یہی نہیں کہ کام کے لئے بھیج دیا بلکہ جو بھی درخواست آتی ہے وہ درخواست دینے والا خود تو اس کو فالو آپ (follow up) کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن عہدیداروں کو بھی جب تک اس پر عمل درآمد نہ ہو جائے اور شکایت دور نہ ہو جائے یا جو معاملہ ہے وہ طے نہ ہو جائے اس وقت تک اس معاملے کو دیکھنا چاہئے اور کوشش کر کے حل کرنا چاہئے بجائے اس کے کہ سر سے ٹالا جائے۔اگر ہر عہدیدار میں یہ عادت پیدا ہو جائے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تو ہمارے بہت سے مسائل ہمارے ختم ہو سکتے ہیں۔حافظ مظفر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ میں گواہ ہوں کہ حضرت میاں صاحب نے خلافت سے محبت اور وفا کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے سپر د امانتوں کے حق ایسے ادا کر کے دکھائے کہ زندگی کے آخری سانس تک خلیفتہ المسیح کی اطاعت اور عہد وقف میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں ہونے دیا اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجا آوری میں پوری عمر صرف کر دی۔ہر چند کہ آپ کے پاس جماعت کا بڑا عہدہ تھا مگر نہایت منکسر المزاج، اخلاق فاضلہ سے متصف اور با اصول نگران تھے۔اسی طرح حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ باجماعت نماز کی ادائیگی کے اہتمام میں آپ ایک خوبصورت نمونہ تھے۔جب صدر انصار اللہ بنے تو ہر میٹنگ میں بار بار نماز با جماعت اور قیام نماز کی طرف توجہ دلاتے تھے بلکہ خود ہی کہتے تھے کہ تم لوگ کہو گے کہ صرف ایک ہی بات پر اس کی سوئی انکی رہتی ہے۔لیکن میں کیا کروں جب تک اس ذمہ داری کا حق ادا نہیں ہوتا میرا فرض ہے کہ میں یاد دہانی کرواتا رہوں۔اور عہدیداروں کو بھی چاہئے میں نے