خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 400
400 خطبات مسرور جلد 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 قوم کے، رشتہ داروں کے بتوں کو توڑتے ہیں اور پھر مجھے لا کر دے دیتے ہیں تاکہ میں انہیں جلا دوں۔اور ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی حضرت سہل کی وفات تک آپ کا یہ واقعہ بیان کرتے تھے یعنی کہ اپنے لوگوں میں شرک مٹانے کے لئے آپ نے یہ ایک ترکیب استعمال کی۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 348 هجرة الرسول مع الله الله ، دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) حضرت سہل بن حنیف ان عظیم المرتبت صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اُحد کے روز ثابت قدمی دکھائی۔اس روز انہوں نے موت پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈھال بن کر ڈٹے رہے۔جب دشمن کے شدید حملے کی وجہ سے مسلمان بکھر گئے تھے اس دن انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تیر چلائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ سہل کو تیر پکڑاؤ کیونکہ تیر چلانا اس کے لئے آسان امر ہے۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحہ 223 دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) پھر بیان کیا جاتا ہے کہ غزہ ڈل ایک ماہر نیزہ باز یہودی تھا اس کا پھینکا ہوا نیزہ وہاں تک پہنچ جاتا تھا جہاں دوسروں کے نیزے نہیں پہنچ سکتے تھے۔بنو نضیر کے محاصرہ کے ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک خیمہ تیار کیا گیا۔عروؤل نے نیزہ پھینکا جو کہ اس خیمے تک پہنچ گیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم شخص دیا کہ اس کو یعنی خیمہ کو وہاں سے ہٹا دیں۔چنانچہ اس کی جگہ تبدیل کر دی گئی۔پھر اس کے بعد حضرت علی است کی گھات میں گئے۔غزول ایک گروہ کو ساتھ لئے مسلمانوں کے کسی بڑے سردار کو قتل کرنے کے ارادے سے نکل رہا تھا۔حضرت علی نے موقع پا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا سر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔اس کے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھاگ گئے۔ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کی ہی قیادت میں دس افراد پر مشتمل ایک دستہ روانہ فرمایا جنہوں نے ان لوگوں کا تعاقب کر کے ان کو قتل کر دیا اس لئے کہ وہ جنگ کے لئے اور چھپ کر حملہ کر کے قتل کرنے کے لئے نکلے تھے۔اس دستہ میں جو حضرت علی کے ساتھ گیا تھا حضرت ابو دجانہ اور حضرت سہل بن حنیف بھی شامل تھے۔(السيرة الحلبية جلد 2 صفحه 359 غزوة بنو نضير ، دار الكتب العلمية بيروت 1999ء) کوئی دن نہیں تھا جو اس زمانے میں آرام و سکون سے گزرتا ہو ہر وقت دشمن حملے کی تاک میں تھا۔تو ایسے دشمنوں کے ساتھ پھر یہی سلوک ہونا چاہئے تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے بعد وادی القری کا رخ فرمایا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر وادی القری میں اترا تو یہود پہلے سے جنگ کے لئے تیار تھے۔چنانچہ انہوں نے تیروں کے ساتھ استقبال کیا۔مسلمانوں پر تیر پھینکنے شروع کر دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام جس کا نام بد گم تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے کجاوہ وغیر ہ اتار رہا تھا کہ ایک اندھا تیر آکر اسے لگا جس سے وہ جاں بحق ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً صف بندی کا حکم دیا۔لواء حضرت سعد بن عبادہ کو عنایت فرمایا اور جھنڈوں میں سے ایک