خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 399
خطبات مسرور جلد 16 399 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 الْمَوْتُ حَقٌّ وَالْحَيَوةُ بَاطِل وَكُلُّ مَا قَضَى الْإِلَهُ نَازِلُ بِالْمَرْءِ وَالْمَرْءُ الَيْهِ أَيلُ یعنی موت برحق ہے اور زندگی بیکار ہے اور خدا کسی انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے وہی نازل ہونے والا ہے اور اس انسان کو بھی اس فیصلہ کو قبول کرنا ہو گا۔جب حضرت عاصم کے تیر ختم ہو گئے تو وہ نیزے سے لڑنے لگے۔نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار نکال لی اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔(السيرة الحلبية جلد 3 صفحہ 234 سريه رجیع دارالکتب العلميه بيروت لبنان2002ء) دوسرے صحابی جن کا ذکر ہو گا وہ حضرت سہل بن حنیف انصاری ہیں۔حنیف ان کے والد تھے۔والدہ کا نام ہند بنت رافع تھا۔والدہ کی طرف سے آپ کے دو بھائی تھے عبد اللہ اور نعمان اور ان کی اولاد میں بیٹے اسعد اور عثمان اور سعد تھے۔حضرت سہل کی اولاد مدینہ اور بغداد میں مقیم رہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اور حضرت علی کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔انہوں نے غزوہ بدر سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔حضرت سہل بن حنیف عظیم المرتبت صحابی تھے لیکن آپ کے مالی حالات مضبوط نہ تھے۔حضرت ابن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے اموال میں سے حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابودجانہ کے علاوہ انصار میں سے کسی کو حصہ نہیں دیا کیونکہ یہ دونوں تنگدست تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 247 و من بنى حنش بن عوف۔۔۔۔سهل بن حنیف، داراحياء التراث العربي بیروت لبنان 1996ء)الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحہ 223 دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد حضرت علی نے تین دن اور راتیں مکہ میں قیام کیا اور لوگوں کی وہ امانتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د تھیں وہ انہیں واپس کیں۔پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے اور آپ کے ساتھ حضرت کلثوم بن ھدم کے ہاں ٹھہرے۔دوران سفر ایک دورات قبا میں حضرت علی کا قیام رہا۔آپ بیان کرتے تھے کہ قبا میں ایک مسلمان عورت تھی جس کا خاوند نہیں تھا۔کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رات گئے ایک آدمی آگے اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔اس پر وہ عورت باہر آتی ہے۔وہ آدمی کوئی چیز اسے دیتا ہے اور وہ لے لیتی ہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اس معاملہ پر شک ہوا۔میں نے اس عورت سے کہا کہ اے اللہ کی بندی! یہ آدمی کون ہے جو ہر رات تمہارے دروازے پر دستک دیتا ہے اور جب تم باہر آتی ہو تو تمہیں کوئی چیز پکڑا جاتا ہے جس کا مجھے پتہ نہیں کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے۔اور تم ایک مسلمان عورت ہو تمہارا شوہر بھی نہیں ہے اس لئے یہ اس طرح رات کو نکلنا اور کسی غیر مرد سے اس طرح بات کرنا یا چیز لینا ٹھیک نہیں ہے۔اس عورت نے کہا کہ یہ سہل بن تخفیف ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ میں اکیلی عورت ہوں اور میرا کوئی نہیں ہے۔اس لئے جب شام ہوتی ہے تو یہ اپنے لوگوں کے،