خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 398
خطبات مسرور جلد 16 398 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے نیچے اتر آؤ۔ہم تم سے پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔عاصم نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے۔اور پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا کہ اے اللہ! تو ہماری حالت دیکھ رہا ہے۔اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔غرض عاصم اور اس کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا۔بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔" (سیرت خاتم النبيين مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 513-514) آپ مزید یہ لکھتے ہیں کہ " اسی واقعہ رجیع کے ضمن میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ جب قریش مکہ کو یہ اطلاع ملی کہ جو لوگ بنو لحیان کے ہاتھ سے رجیع میں شہید ہوئے تھے ان میں عاصم بن ثابت بھی تھے تو چونکہ عاصم نے بدر کے موقعہ پر قریش کے ایک بڑے رئیس کو قتل کیا تھا اس لئے انہوں نے رجیع کی طرف خاص آدمی روانہ کئے اور ان آدمیوں کو تاکید کی کہ عاصم کا سر یا جسم کا کوئی عضو کاٹ کر اپنے ساتھ لائیں تا کہ انہیں تسلی ہو اور ان کا جذ بہ انتقام تسکین پائے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جس شخص کو عاصم نے قتل کیا تھا اس کی ماں " سُلافہ بنت سعد " نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کی کھوپڑی میں شراب ڈال کر پیئے گی۔لیکن خدائی تصرف ایسا ہوا کہ یہ لوگ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ زنبوروں " بھڑوں " اور شہد کی مکھیوں کے جھنڈ عاصم کی لاش پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں اور کسی طرح سے وہاں سے اٹھنے میں نہیں آتے۔ان لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ یہ زنبور اور مکھیاں وہاں سے اڑ جائیں مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔آخر مجبور ہو کر یہ لوگ خائب و خاسر واپس لوٹ گئے۔اس کے بعد جلد ہی بارش کا ایک طوفان آیا اور عاصم کی لاش کو وہاں سے بہا کر کہیں کا کہیں لے گیا۔لکھا ہے کہ عاصم نے مسلمان ہونے پر یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ وہ ہر قسم کی مشرکانہ چیز سے قطعی پر ہیز کریں گے حتی کہ مشرک کے ساتھ چھوئیں گے بھی نہیں۔حضرت عمر کو جب ان کی شہادت اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو کہنے لگے کہ خدا بھی اپنے بندوں کے جذبات کی کتنی پاسداری فرماتا ہے۔موت کے بعد بھی اس نے عاصم کے عہد کو پورا کر وایا اور مشرکین کے مس سے انہیں محفوظ رکھا۔" (سیرت خاتم النبیین مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 516 ) ( الطبقات الکبری جلد 3 صفحہ352 عاصم بن ثابت دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حبي الدبر بھی کہا جاتا ہے یعنی جسے بھڑوں یا شہد کی مکھیوں کے ذریعہ بچایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد بھی بھڑوں کے ذریعہ آپ کی حفاظت کی۔حضرت عاصم اور ان کے اصحاب کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر نماز فجر میں قنوت فرمایا جس میں رعل ، ذکوان اور بنو خیان پر لعنت کرتے رہے۔(اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 3 صفحہ 6 مطبوعه دارالفکر بيروت لبنان (2003ء) (سنن الكبرى للبيهقى جلد 2 صفحه 347 كتاب الصلوة حديث 3322 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت عاصم دشمن کے مقابلے میں تیر برساتے جاتے اور ساتھ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے کہ :