خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 397
397 خطبات مسرور جلد 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 مجبوراً نکلا ہوں اور میری بیٹیاں ہیں۔پس مجھ پر احسان کر۔(دوبارہ وہی بات کی کہ میری بیٹیاں ہیں۔مجھ پر احسان کرو۔پہلے تو احسان کرتے ہوئے یہ چھوڑا گیا تھا اور پھر جنگ کے لئے نکلا تھا۔) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا وہ عہد کہاں گیا جو تم نے میرے ساتھ کیا تھا۔ہر گز نہیں۔(اب یہ نہیں ہو سکتا۔اللہ کی قسم ! اب تم مکہ میں یہ نہیں کہتے پھرو گے کہ میں نے دو دفعہ محمد کو ( نعوذ باللہ ) دھو کہ دیا اور بیوقوف بنایا۔ایک اور روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔پھر آپ نے حکم دیتے ہوئے عاصم بن ثابت کو کہا کہ اس کو قتل کر دو۔پس عاصم آگے بڑھے اور اس کی گردن اڑا دی۔(كتاب المغازى جلد 1 صفحہ 110-111 بدر القتال، دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2004ء) اتنے ظلم کے بعد ، ایسی عہد شکنی کرنے کے بعد جب سزا دی جاتی ہے تو پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے ظلم کیا۔اب ہالینڈ کا سیاستدان ولڈر (Wilder) جو ہے آجکل آپ کی ذات پر بڑے بڑھ چڑھ کر حملے کر رہا ہے۔اگر اس دنیا میں اپنے ملک میں بھی وہ ایسے معافی کے نمونے دکھائیں تو پھر سمجھ آئے گی کہ واقعی وہ کسی حد تک اعتراض میں جائز ہیں۔لیکن ایسی مثالیں وہ کبھی پیش نہیں کر سکتے۔واقعہ رجیع اور حضرت عاصم کا ذکر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ خاتم النبیین میں بھی کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ صفر چار ہجری میں اپنے دس صحابیوں کی ایک پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جا کر قریش کے حالات دریافت کریں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے آپ کو اطلاع دیں۔لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عضل اور قارہ کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں۔آپ چند آدمی ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں جو ہمیں مسلمان بنائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ خواہش معلوم کر کے خوش ہوئے اور وہی پارٹی جو خبر رسانی کے لئے تیار کی گئی تھی ان کے ساتھ روانہ فرما دی۔لیکن دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا یہ لوگ جھوٹے تھے اور بنو لحیان کی انگیخت پر مدینہ میں آئے تھے جنہوں نے اپنے رئیس سفیان بن خالد کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانہ سے مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کر دیا جاوے اور بنو لحیان نے اس خدمت کے معاوضہ میں عضل اور قارہ کے لوگوں کے لئے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کئے تھے۔جب عضل اور قارہ کے یہ غدار لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بنو لحیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھیجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیں تم ان کو قتل کرنے کے لئے " آجاؤ جس پر قبیلہ بنو لحیان کے دو سو نوجوان جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور مقام رجیع میں ان کو آدبایا۔" دس آدمی جو مسلمان تھے وہ " دوسو سپاہیوں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے لیکن مسلمانوں کو ہتھیار ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔فوراً یہ صحابی ایک قریب کے ٹیلہ پر چڑھ کر مقابلہ کے واسطے تیار ہو گئے۔کفار نے جن کے نزدیک دھو کہ دینا کوئی معیوب فعل نہیں تھا ان کو