خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد 16 396 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 لکھتے ہیں کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتے ہو کہ انہوں نے جنگیں کیں مگر ان کی جنگوں میں تو چند سو یا ہزار لوگ مرے ہوں گے اور تم جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ اور انسانیت کے ہمدرد سمجھتے ہو تم نے صرف ایک جنگ میں (اس نے جنگ عظیم دوم کا حوالہ دیا کہ سات کروڑ سے زیادہ لوگوں کو مار دیا جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔لیکن آج بد قسمتی سے مسلمان بھی ان لوگوں سے ہی مدد لے رہے ہیں اور بلا امتیاز مسلمان مسلمانوں کا قتل کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ وہ طریق کہ جب دشمن حملہ کرے اور دشمن قریب آئے تو اس سے جنگ کرنے کے جو مختلف طریقے ہیں۔(اس پر عمل کریں) یہ خود حملہ کر رہے ہیں اور معصوموں کو مار رہے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اُحد والے دن اپنی تلوار کے ساتھ واپس آئے جو کثرت قتال کی وجہ سے مڑ چکی تھی۔حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ اس قابل ستائش تلوار کو رکھو۔یہ میدان جنگ میں خوب کام آئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات سنی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر تم نے آج کمال کی تلوار زنی کی ہے تو سہل بن حنیف اور ابو دجانہ اور عاصم بن ثابت اور حارث بن صمہ نے بھی تلوار زنی میں کمال دکھایا ہے۔(المستدرك على الصحيحين كتاب المغازى والسرايا جلد 5 صفحہ 1623 حدیث 4309 مكتبه نزار مصطفى الباز مکه مکرمه ریاض 2000ء) ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں میں سے ابو عزہ عمرو بن عبد اللہ جو کہ ایک شاعر تھا، پر احسان کرتے ہوئے اسے آزاد کر دیا کیونکہ اس نے کہا تھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میری پانچ بیٹیاں ہیں اور میرے علاوہ ان کا کوئی نہیں ہے۔پس آپ مجھے ان کی وجہ سے بطور صدقہ آزاد کر دیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا۔اس پر ابو عزة نے کہا کہ میں آپ سے پختہ عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ نہ تو آپ سے جنگ کروں گا اور نہ ہی کسی کی جنگ کے لئے معاونت کروں گا۔اس بات پر آپ نے اسے واپس بھجوا دیا اور بغیر کسی معاوضہ کے چھوڑ دیا۔جب قریش اُحد کی طرف نکلنے لگے تو صفوان بن امیہ آیا اور اس نے اسے کہا کہ تم بھی ہمارے ساتھ نکلو۔اس نے کہا کہ میں نے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پختہ عہد کیا ہے کہ میں کبھی بھی آپ سے جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی جنگ کے لئے معاونت کروں گا۔انہوں نے صرف مجھ پر یہ احسان کیا ہے اور میرے علاوہ علاوہ کسی پر یہ احسان نہیں کیا۔تو صفوان نے اسے ضمانت دی کہ اگر وہ قتل کر دیا گیا تو اس کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بنالے گا اور وہ زندہ رہا تو اسے مال کثیر دے گا جس سے صرف اس کا عیال ہی کھائے گا۔(اسے لالچ دیا کہ تم فکر نہ کرو۔جنگ میں ہمارا ساتھ دو۔اگر جنگ میں قتل ہو گئے تو تمہاری بیٹیوں کو بھی بیٹیوں کی طرح رکھوں گا اور اگر بچ گئے تو بہت زیادہ مال دوں گا۔) اس پر ابو عزة عرب کو بلانے اور اکٹھا کرنے نکلا۔( یہی نہیں کہ خود شامل ہوابلکہ دوسرے قبائل کو، دوسرے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اکٹھا کرنے کے لئے نکلا۔) پھر قریش کے ساتھ جنگ احد کے لئے بھی نکلا اور دوبارہ پھر جنگ میں قید کیا گیا۔اس کے علاوہ قریش میں سے کسی کو قید نہیں کیا گیا تھا۔جب پکڑا گیا تو پوچھا گیا کہ تم نے تو عہد کیا تھا۔اس نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں