خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 395

خطبات مسرور جلد 16 395 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 24 اگست 2018ء بمطابق 24 ظہور 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت عاصم بن ثابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے۔ان کے والد تھے ثابت بن قیس اور ان کی والدہ کا نام شموسن بنت ابو عامر تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت عبد اللہ بن بخش کے در میان مواخات قائم فرمائی تھی۔غزوہ اُحد کے موقع پر جب کفار کے اچانک شدید حملے کی وجہ سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچی تو حضرت عاصم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامز د تیر اندازوں میں یہ شامل تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جز 3 صفحہ 243 عاصم بن ثابت دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء) ان کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا۔جنگ بدر میں بھی شریک تھے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 3 صفحہ 5 عاصم بن ثابت ، مکتبہ دارالفکر بيروت لبنان 2003ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر والے دن صحابہ سے پوچھا کہ جب تم دشمن کے مد مقابل آؤ گے تو ان سے کیسے لڑو گے ؟ حضرت عاصم نے عرض کیا یا رسول اللہ جب کوئی قوم اتنی قریب آ جائے گی کہ ان تک تیر پہنچ سکیں تو ان پر تیر برسائے جائیں گے۔پھر جب وہ ہمارے اور قریب آجائیں کہ ان تک پتھر پہنچ سکیں تو ان پر پتھر پھینکتے جائیں گے۔پھر آپ نے تین پتھر ایک ہاتھ میں اٹھائے اور دو دوسرے میں اور پھر کہا کہ جب وہ ہمارے اتنے قریب آجائیں کہ ہمارے نیزے ان تک پہنچ سکیں تو ان کے ساتھ نیزہ بازی کی جائے گی۔پھر جب نیزے بھی ٹوٹ جائیں گے تو انہیں تلواروں کے ذریعہ قتل کیا جائے گا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح جنگ لڑی جاتی ہے۔اور پھر آپ نے فرمایا کہ جو کوئی قتال کرے جنگ کرے تو عاصم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق جنگ کرے۔(المعجم الكبير للطبراني جلد 5 صفحہ 34 حدیث نمبر 5413 داراحیاء التراث العربي 2002ء) اس زمانے میں تو تیر اور نیزے اور تلوار میں ہی تھیں جن سے جنگ کی جاتی تھی اور یہی جنگ کا طریق تھا بلکہ پتھر بھی استعمال کئے جاتے تھے۔آجکل کی طرح نہیں کہ معصوم شہریوں پر بمباری کر کے معصوموں اور بچوں کو بھی مار دیا جائے۔ایک غیر مسلم نے کتاب لکھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ