خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 393
خطبات مسرور جلد 16 393 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 17 اگست 8 2018- میں بطور پرنسپل سکول بھجوایا گیا۔24 / دسمبر 1963ء کو پاکستان واپس آئے۔پھر اپریل 1964ء میں تعلیم الاسلام کالج میں دوبارہ تقرری ہوئی۔پھر جب تعلیم الاسلام کالج بھٹو صاحب کے زمانے میں نیشنلائز ہوا تو اپریل 1975ء میں آپ نے نیشنلائزیشن کے بعد وہاں سے استعفیٰ دے دیا اور انجمن میں رپورٹ کر دی کہ میں واقف زندگی ہوں۔3 جولائی 1975ء کو آپ کا تقر ر بطور نائب ناظر تعلیم ہوا۔1976ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث امریکہ اور یورپ کے ممالک کے دورے پر تشریف لے گئے تو مر زا مجید احمد صاحب بطور پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے ساتھ تھے۔1978ء میں آپ کو نائب ناظر اعلیٰ مقرر کیا گیا اور 1984ء میں یہاں سے پھر ریٹائر ڈ ہوئے۔ان کے داماد سید مدثر احمد کہتے ہیں کہ انہوں نے سیرۃ المہدی کا کچھ حصہ انگریزی میں ترجمہ کیا۔اور الفضل میں باقاعدہ مضامین لکھتے تھے۔علمی آدمی تھے۔یہ مضامین کتابی صورت میں "نقطہ نظر " کے نام سے چھاپے گئے ہیں۔پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔میں نے بھی ان کو دیکھا ہے کہ اکثر وقت لائبریری میں مطالعہ کرنے میں گزارتے تھے۔ان کی بہو مرزا غلام قادر شہید کی بیوہ امت الناصر لکھتی ہیں کہ بہت پیار کرنے والے ، اعلیٰ ظرف کے مالک تھے۔بچوں سے بہت پیار کرنے والے مخلص اور کھلے دل کے انسان تھے۔یہ ان کی بڑی خوبی تھی کہ ہر عمر کے لوگوں میں ایڈ جسٹ کر جاتے تھے اور ایک دوست کی طرح ان سے سلوک کرتے تھے۔بچوں سے بھی بڑوں سے بھی نوجوانوں سے بھی۔یہ لکھتی ہیں کہ اپنے بیٹے مرزا غلام قادر شہید کی شہادت پر بہت صبر کا نمونہ دکھایا اور کہتی ہیں کہ شہادت کے بعد مرزا مجید احمد صاحب اور آپ کی اہلیہ بہت زیادہ قادر شہید کے بچوں کا خیال رکھتے۔پھر بیماری کا بڑ المباعرصہ تھا اور بہت صبر اور ہمت کے ساتھ انہوں نے گزارا۔غصہ والی طبیعت نہیں تھی۔جس کسی سے بھی تعلق رکھا بہت مخلص ہو کر رکھا۔اسی طرح ملازموں کا بھی خیال رکھنے والے تھے۔ان کے داماد مرزا نصیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ مرزا مجید احمد صاحب صائب الرائے تھے اور بڑی واضح رائے رکھتے تھے۔یہ نہیں کہ جو رائے چل پڑی ہے اسی میں ہاں کر دی بلکہ جو صحیح ہو تا تھا اس کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے اور ہمیشہ خلافت اور جماعت سے وابستہ رکھے۔دوسرا جنازه مکرمہ سیدہ نسیم اختر صاحبہ کا ہے جو محمد یوسف صاحب، آنبہ نوریہ ضلع شیخوپورہ کی اہلیہ تھیں۔ان کی 27 / جولائی 2018ء کو وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت ولی محمد صاحب کی پوتی اور قاضی دین محمد صاحب کی بیٹی تھیں۔پارٹیشن کے بعد آپ کے والد آپ کے خاندان کو لے کر قادیان سے ہجرت کر کے ربوہ منتقل ہو گئے۔شادی کے بعد گاؤں آنبہ نوریہ میں زندگی گزاری۔اس دوران مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔اٹھارہ سال مقامی مجلس کی صدر لجنہ بھی رہیں۔صوم و صلوۃ کی پابند۔تہجد گزار تھیں۔غریب پرور تھیں۔ہمسایوں سے حسن سلوک کرنے والی سادہ اور منکسر المزاج تھیں۔بڑی مخلص خاتون تھیں۔قرآن کریم کی با قاعدہ