خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 392
خطبات مسرور جلد 16 392 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018 تو یہ تھے وہ صحابہ جنہوں نے ہمارے لئے اُسوہ کو قائم کیا اور ہمیں بہت ساری باتوں کے متعلق آگاہی بھی دی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔جمعہ اور نماز کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔یہ پہلا جنازہ مکرم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب کا ہے جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے بیٹے تھے۔14 اگست کو 94 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کا دل کا آپریشن 2000ء میں امریکہ میں ہوا تھا اس کے بعد وہاں فالج کا حملہ ہوا۔اس کے بعد تقریباً صاحب فراش ہی رہے۔18 / جولائی 1924ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور مکرمہ سرور سلطان بیگم صاحبہ بنت حضرت غلام حسن صاحب پشاوری کے ہاں قادیان میں ان کی پیدائش ہوئی۔ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی اور تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک پاس کیا۔پھر 1949ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم۔اے ہسٹری اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا۔ان کے پاس ہونے پر جب لوگوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مبارکباد میں جب دیں تو علاوہ اور شکر گزاری کے الفاظ کے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ بھی لکھا کہ دراصل مومنوں کی جماعت اپنی خوشی اور غمی کے موقعوں پر ایک دوسرے کے سہارے پر قائم ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے سہارے سے راحت اور تسکین اور مضبوطی حاصل کرتی ہے کہ یہی جماعت کے نظریے کا مرکزی نکتہ ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ مگر میں دوستوں سے درخواست کروں گا کہ اس خوشی کی شرکت کے علاوہ یہ بھی دعا کریں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے عزیز مجید احمد کو علم کا ظاہری معیار پورا کرنے کی توفیق دی ہے اسی طرح اسے حقیقی علم سے بھی نوازے اور پھر اس علم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے کیونکہ یہی ہماری زندگیوں کا اصل مقصد اور منتہا ہے۔(ماخوذ از مضامین بشیر۔جلد 2 صفحہ 605) مرزا مجید احمد صاحب نے 17 مئی 1944ء کو اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دی اور ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی۔دسمبر 1949ء میں جامعتہ المبشرین میں داخل ہوئے اور جولائی 1954ء میں جامعہ پاس کیا۔ان کا نکاح 28 دسمبر 1950ء کو جلسہ سالانہ کے تیسرے دن صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ بنت حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب اور حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے پڑھا۔ان کی اولاد میں ان کی ایک بڑی بیٹی ہیں نصرت جہاں صاحبہ جو مرزا نصیر احمد طارق جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے پوتے ہیں ان کی اہلیہ ہیں۔پھر ان کے بیٹے ہیں مرزا محمود احمد۔پھر ان کی ایک بیٹی در ثمین ہے جو میر محمود احمد صاحب کی بہو ہیں۔پھر ان کے بیٹے تھے مرزا غلام قادر صاحب شہید اور ان کی اہلیہ ہیں امۃ الناصر جو سید میر داؤد احمد صاحب کی بیٹی ہیں۔پھر ان کی ایک پانچویں بیٹی فائزہ صاحبہ ہیں جو سید مدثر احمد صاحب کی بیوی ہیں اور یہ بھی واقف زندگی ہیں۔جولائی 1954ء میں مکرم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب نے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ان کا پہلا تقرر 20 ستمبر 1954ء کو تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں ہوا۔14 نومبر 1956ء کو تحریک جدید کے تحت غانا کے شہر کماسی