خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 391

خطبات مسرور جلد 16 391 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 8 2018- یہ شان تھی ان صحابہ کی۔حضرت ابوالہیثم غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔غزوہ موتہ میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوالہیثم کو خیبر میں کھجوروں کے پھل کا اندازہ کرنے کے لئے بھی بھجوایا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب حضرت ابو بکر نے آپ کو کھجوروں کے اندازے کے لئے بھجوانا چاہاتو انہوں نے جانے سے معذرت کر دی۔حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو کھجوروں کے اندازے کے لئے جایا کرتے تھے۔اس پر حضرت ابوالہیشم نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجوروں کا اندازہ کیا کرتا تھا جب میں اندازے کر کے واپس آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرماتے تھے۔اس وقت ان کو وہ خیال آگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں لیتا تھا اور ایک جذباتی کیفیت تھی۔یہ سن کر حضرت ابو بکڑ نے انہیں نہ بھجوایا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 42 3 ابو الهثيم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) تو یہ ایک جذباتی کیفیت تھی جو انہوں نے بیان کی ورنہ یہ لوگ وہ تھے جو ہمیشہ اطاعت کرنے والے تھے۔نافرمانی کرنے والے نہیں تھے۔اگر حضرت ابو بکر پھر بھی حکم دیتے تو یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ وہ تعمیل نہ کرتے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کا آپ کو دوبارہ نہ کہنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت ابو بکر کو بھی ان کی اس جذباتی کیفیت کا خیال آگیا اور سمجھ گئے۔اس لئے حکم نہیں دیا۔پھر جب حضرت عمر نے خبیر کے یہود کو جلا وطن کیا تو حضرت عمرؓ نے ان کی طرف ایسے افراد کو بھیجا جو ان کی زمین کی قیمت لگائیں۔حضرت عمرؓ نے ان کی طرف حضرت ابوالہیثم اور حضرت فروہ بن عمر و اور حضرت زید بن ثابت کو بھیجا۔انہوں نے اہل خیبر کی کھجوروں اور زمین کی قیمت لگائی۔حضرت عمر نے اہل خیبر کو ان کی نصف قیمت دے دی جو کہ پچاس ہزار درہم سے زیادہ تھی۔(كتاب المغازي للواقدى جلد دوم باب شان فدك صفحه 165 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2004ء) یہاں اب دیکھیں کہ وہ اس جگہ چلے گئے۔وہ جذباتی کیفیت نہیں تھی۔اب عرصہ گزر گیا تھا اس لئے ان کو کوئی روک نہیں کوئی ایسا امر مانع نہیں تھا۔السلام علیکم کہنے کے متعلق بھی ایک روایت ان سے ملتی ہے۔حضرت ابوالہیثم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو السلام علیکم کہتا ہے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہنے والے کو ہیں نیکیاں ملتی ہیں۔اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہنے والے کو تیس نیکیاں ملتی ہیں۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحہ 366 ابو الهيثم بن التيهان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت ابوالہیثم کے زمانہ وفات کی بابت مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔بعض کے نزدیک آپ کی وفات حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہوئی تھی۔بعض کے نزدیک آپ کی وفات ہیں یا اکیس ہجری میں ہوئی تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ نے جنگ صفین سینتیں ہجری میں حضرت علی کی طرف سے لڑتے ہوئے شہادت پائی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 1342 بو الهيثم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)،(اسد الغابه جلد 5 صفحہ 13 ابو الهيثم مالك بن التيهان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت)