خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 31
خطبات مسرور جلد 16 31 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 چہرے پر تبسم ، عاجز، چشم پوشی اور در گذر کرنے والے تھے۔کسی شکایت کنندہ کے شکوہ یا کسی کے حسب منشاء خواہش کی تکمیل نہ ہونے پر ہمیشہ پیار سے توجہ دلاتے۔دیر تک بڑے تحمل سے بات سنتے اور یہ متحمل سے بات سننا ہر جماعتی عہدیدار کا فرض ہے۔اگر تحمل سے لوگوں کی باتیں سنی جائیں تو بہت سے مسائل بلکہ شکوے دور ہو جاتے ہیں۔مربی صاحب یہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ دفتر میں ایک شخص نے کھڑے کھڑے اپنی بات پیش کی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غصہ میں پیش کردہ درخواست پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دی۔آپ خاموش رہے۔غالباً اس شخص کے لئے دعا کرتے رہے۔کہتے ہیں میں پاس ہی کھڑا تھا۔مجھے اس شخص کی یہ بے ادبی بری لگی تو کچھ عرض کرنے لگا۔لیکن آپ نے کہا کہ کوئی بات نہیں جانے دیں۔اسے کچھ نہیں کہنا۔ہر ایک کا اپنا اپنا طریق ہے۔کہتے ہیں کہ آپ کا تحمل، بردباری اور وسعت حوصلہ دیکھ کر رشک آتا تھا کہ کمزور ہونے کے باوجود یعنی بیماری کی وجہ سے کمزور ہونے کے باوجود اتنے مضبوط قویٰ کے مالک تھے۔پھر ان کا حافظہ بھی بڑا قابل تعریف تھا۔قابل رشک تھا اور یادداشت کمال کی تھی۔کہتے ہیں سوچ مدبرانہ تھی۔کہتے ہیں سینکڑوں خطوط اور رپورٹس روزانہ مشاہدہ کرتے لیکن بار بار ایسا ہوا کہ کوئی معاملہ کئی مہینے قبل فائل ہو چکا ہوتا اور کئی مہینوں کے بعد درخواست کنندہ دعا یا مزید کارروائی کے لئے پوچھتا تو کار کن تو وہ کمپیوٹر سے تلاش کر رہے ہوتے تھے اور ان کو یاد ہو تا تھا کہ کیا کارروائی ہوئی ہے یا کیا ہدایت دی گئی ہے اور کتنے کاغذات تھے ، کہاں ہوں گے۔گویا اپنے دفتر کی جو فائلیں تھیں وہ تک بھی ان کو یا د رہتی تھیں اور اپنے معاملات میں پوری دسترس تھی۔ناظم قضاء راشد جاوید صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک معاملہ میں خاوند جو ہر حالت میں صلح چاہتا تھا اور تقریباً تمام معاملات حل ہو گئے لیکن بیوی کی طرف سے ڈیمانڈ تھی کہ یہ رقم واپس کرے جو میرے سے لی ہے۔لیکن خاوند کے مالی حالات نہایت کمزور تھے۔ناظم قضاء کہتے ہیں کہ میں نے زبانی جا کر میاں صاحب سے درخواست کی کہ کچھ آپ دے دیں کچھ میں کہیں سے کروادیتا ہوں۔پھر میں نے ان سے کہا کہ آپ بڑے ہیں سیارے ہی آپ دے دیں، اس پر ہنس کر کہنے لگے کہ اگر اس طرح اس کی صلح ہوتی ہے تو لکھ کر بھیج دو۔چنانچہ وہ رقم ادا کر دی اور چند منٹ میں ان کی صلح کا معاملہ طے ہو گیا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے مربی ربانی صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خاکسار کی بہنیں ایک دفعہ ربوہ آئیں ان کو جلد کی بیماری تھی۔انہوں نے صفائی کے خیال سے نئے دارالضیافت میں قیام کی اجازت چاہی۔انتظامیہ کے بعض قوانین کی وجہ سے میری بہنوں کو کہا گیا کہ استثنائی اجازت ناظر اعلیٰ سے مل سکتی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ہم نہایت سہمی ہوئی کہ جماعت کے بڑے عہدے پر فائز انتہائی مصروف شخصیت اتنے بڑے شخص سے کس طرح ملیں ؟ ہمیں وقت بھی دیں گے یا نہیں؟ لیکن بہر حال ہم گئے۔انہوں نے ہمیں دفتر بلا یا شفیق باپ کی طرح بیٹیوں کی طرح ہمیں ٹریٹ (treat) کیا اور فورا ہماری تکلیف بھی دور کر دی۔اجازت بھی دے دی۔اور کہتی ہیں اس وجہ سے ہمارا بھی نظام جماعت پر اعتماد زیادہ قائم ہوا اور ہمارے ایمان میں بھی اضافہ ہوا۔امیر ضلع خوشاب منور مجو کہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک اعلیٰ منتظم ، انتہائی شریف النفس، نافع الناس وجود تھے۔فرائض کی ادائیگی میں انتہائی معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی بیحد خیال رکھتے تھے۔غریب پروری اور