خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 390

خطبات مسرور جلد 16 390 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018 ہے۔پھر آپ سب لوگ حضرت ابو الہیثم انصاری کے گھر کی طرف چل پڑے۔ان کے پاس کافی بکریاں اور کھجور کے درخت تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گھر پر نہ پایا۔آپ نے ابو الہیثم کی بیوی سے کہا کہ تیرا خاوند کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔تھوڑی دیر بعد حضرت ابوالہیثم بھی مشک اٹھائے ہوئے آگئے۔انہوں نے مشک ایک طرف رکھ دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور اپنی جان ومال وار نے لگے۔میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں۔حضرت ابوالہیثم آپ تینوں کو لے کر اپنے باغ کی طرف گئے اور ایک چادر بچھا دی۔پھر جلدی سے باغ کی طرف گئے اور کھجور کا پورا خوشہ ہی کاٹ کر لے آئے جس پر کچے پکے ڈو کے بھی تھے اور پکی ہوئی کھجوریں بھی تھیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو الہیثم ! تم پکی ہوئی کھجوریں یاڈو کے چن کر کیوں نہیں لائے بجائے جو سارا پورا bunch ہے وہ لے آئے ہو۔تو عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے چاہا آپ اپنی پسند کے مطابق پکی کھجوریں یاڈو کے خود چن کر کھا لیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کی قسم! یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم قیامت کے دن پوچھے جاؤ گے۔یعنی ٹھنڈا سایہ اور ٹھنڈا پانی اور تازہ کھجوریں۔پھر حضرت ابوالہیثم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانے کا انتظام کرنے اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ دینے والی بکری کو ذبح نہ کرنا۔اس پر انہوں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور سب نے اسے کھایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہارا کوئی خادم بھی ہے ؟ تو حضرت ابوالہیثم نے عرض کیا کہ نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ہمارے پاس کوئی جنگی قیدی آئے تو ہمارے پاس آنا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی آئے تو حضرت ابوالہیثم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے ایک کو پسند کر لو۔حضرت ابو الہیثم کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ ہی میرے لئے انتخاب فرما دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔( یہ بات بھی خاص طور پہ ہر ایک کے لئے نوٹ کرنے والی ہے کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے اس لئے ہمیشہ اچھا مشورہ دینا چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ خادم لے لو کیونکہ میں نے اسے عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔اور جو خوبی اس خادم کی بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ عبادت کرتا ہے۔اللہ کو یاد کرنے والا ہے۔اس کے دل میں نیکی ہے۔اس کے ساتھ پھر فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔حضرت ابوالہیثم اپنی بیوی کے پاس لوٹے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کے بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگیں کہ تم اس نصیحت کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکو گے جو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے یہی کہ نیک سلوک کرنا۔اب عورت ذات ہے اور پھر نو کر بھی کوئی نہیں۔کام کرنے والا جو ملا ہے اس کے بارے میں یہ دیکھیں معیار، مومنانہ شان۔ان کی اہلیہ ان کو یہ کہنے لگی کہ حق تو تبھی پورا ہو گا کہ تم اس کو آزاد کر دو۔جو تمہیں ملازم ملا ہے اس کو آزاد کر دو۔اس پر حضرت ابوالہیثم نے اس کو آزاد کر دیا۔(سنن الترمذى كتاب الزهد باب ما جاء في معيشة اصحاب النبی صلی اللہ حدیث 2369)