خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 389
خطبات مسرور جلد 16 389 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018 سے قائم ہو رہا ہے جب اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت فرمائے اور آپ کی قوم پر آپ کو غلبہ نصیب ہو تو اس وقت آپ ہمیں چھوڑ کر واپس اپنی قوم میں نہ چلے جائیں اور ہمیں داغ مفارقت نہ دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا اب تمہارا خون میرا خون ہو چکا ہے۔اب میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ میں سے ہو۔جو تم سے جنگ کرے گا وہ مجھ سے جنگ کرے گا اور جو تم سے صلح کرے گا وہ مجھ سے صلح کرے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 427 حدیث 15891 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مکہ کے بعد حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت ابوالہیثم انصاری کے در میان مواخات قائم فرمائی۔الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحہ 365 ا بن الهيثم بن التّيهان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس گئے اور آپ کے ساتھ آپ کے ایک ساتھی بھی تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس پانی ہو یا آج رات مشک میں رہا ہو تو پلاؤ ورنہ ہم یہیں سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔وہاں پانی بہہ رہا تھا۔وہ شخص اپنے باغ میں پانی لگا رہا تھا۔اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس رات کا پانی ہے آپ جھونپڑی کی طرف چلئے۔وہ شخص یعنی حضرت ابوالہیثم آپ اور آپ کے ساتھی دونوں کو لے گیا اور ایک پیالے میں پانی ڈالا۔پھر اس پر گھر کی بکری کا دودھ دھویا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشروب پیا پھر اس شخص نے بھی پیا جو آپ کے ساتھ تھا۔یہ بخاری کی روایت ہے۔(صحيح البخارى كتاب الاشربه باب شرب اللبن بالماء حديث 5613) اسی طرح ایک روایت ہے حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو الہیثم بن اللتھان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی۔جب سب کھانا کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا۔اپنے بھائی کو بدلہ بھی دو۔صحابہ نے کہا یار سول اللہ ! ہم اس کا کیا بدلہ دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کسی کے گھر میں جا کر کھانا کھائے اور پانی پنے تو اس کے لئے دعا کرے۔یہ اس کے لئے اس کھانے کا بدلہ ہے۔(سنن ابو داؤد كتاب الاطعمة باب فى الدعاء لرب الطعام اذا اكل عنده حديث 3853) یہ ہیں اعلیٰ اخلاق جو ہر مسلمان کے لئے ضروری ہیں۔حضرت ابوہریر کا بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں گھر سے باہر نکلے جب عام طور پر کوئی باہر نہیں نکلتا اور نہ کوئی کسی سے ملتا ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت ابو بکر آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے ابو بکر تجھے کیا چیز لے آئی ؟ ( یعنی گھر سے باہر آئے ) تو انہوں نے عرض کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھنے اور اس کو سلامتی بھیجنے کے لئے نکلا ہوں۔تھوڑی دیر تک حضرت عمر بھی آگئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے عمر تجھے کیا چیز لے آئی ؟ عمر نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھوک لے آئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہوئی