خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 388

خطبات مسرور جلد 16 388 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018 مسلمان ہو کر مدینہ آئے تو حضرت ابوالہیثم کو اسلام کی دعوت دی۔چونکہ آپ پہلے ہی دین فطرت کی تلاش میں تھے آپ نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔پھر بیعت عقبہ اولیٰ کے وقت جو بارہ آدمیوں کا وفد مکہ گیا تو اس وفد میں آپ شامل تھے۔مکہ پہنچ کر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔(سیر الصحا بہ جلد 3 صفحہ 215 ابو الہشیم بن الشیهان مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس بارے میں تحریر کیا ہے کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھائی میں ان سے ملے۔انہوں نے میثرب کے حالات سے اطلاع دی اور اب کی دفعہ سب نے باقاعدہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ بیعت مدینہ میں اسلام کے قیام کا بنیادی پتھر تھی۔چونکہ اب تک جہاد بالسیف فرض نہیں ہوا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صرف ان الفاظ میں بیعت لی جن میں آپ جہاد فرض ہونے کے بعد عورتوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔یعنی یہ کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔شرک نہیں کریں گے۔چوری نہیں کریں گے۔زنا کے مر تکب نہیں ہوں گے۔قتل سے باز رہیں گے۔کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپ کی اطاعت کریں گے۔بیعت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم صدق و ثبات کے ساتھ اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہو گی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ جس طرح چاہے گا کرے گا۔یہ بیعت تاریخ میں بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ وہ جگہ جہاں بیعت لی گئی تھی عقبہ کہلاتی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان واقع ہے۔عقبہ کے لفظی معنی " لکھے ہیں کہ " بلند پہاڑی رستے کے ہیں۔" ( سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 224) حضرت ابو الہیثم ان چھ افراد میں شامل تھے جنہوں نے اپنی قوم میں سے سب سے پہلے مکہ جا کر اسلام قبول کیا اور پھر مدینہ واپس آکر اسلام کی اشاعت کی۔ان کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ آپ سب ، پہلے انصاری ہیں جو مکہ جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔آپ بیعت عقبہ اولیٰ میں شامل ہوئے اور محققین کا اس پر اتفاق ہے کہ بیعت عقبہ ثانیہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصار میں سے بارہ تمام نقباء منتخب فرمائے تو آپ بھی ان نقباء میں سے ایک تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 341-1342ابو الهيثم بن التّيهان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) نقباء نقیب کی جمع ہے جس کا مطلب ہے کہ جو علم اور صلاحیت رکھنے والے لوگ تھے انہیں ان کا سر دار یا لیڈر یا نگران مقرر کیا تھا۔ایک حدیث میں روایت ہے کہ بیعت عقبہ کے دوران حضرت ابوالہیثم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اور بعض دیگر قبائل کے درمیان باہمی مدد کے کچھ معاہدے ہیں۔جب ہم اسلام قبول کر لیں گے اور بیعت کر کے آپ ہی کے ہو جائیں گے تو ان معاہدوں کا معاملہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائیں گے ویسا ہی ہو گا۔(ابوالہیثم اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اس موقع پر میں آپ کی خدمت میں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اے اللہ کے رسول ! اب ہمارا تعلق آپ