خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 387

خطبات مسرور جلد 16 387 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018 جنگی کارروائی کوئی نہیں ہوئی۔البتہ اس خبر کے آنے کی تاریخ سے لے کر برابر تیس دن تک آپ نے ہر روز صبح کی نماز کے قیام میں نہایت گریہ و زاری کے ساتھ قبائل رِعل اور ذکوان اور خصیہ اور بنو لحیان کا نام لے لے کر خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی اے میرے آقا! تو ہماری حالت پر رحم فرما اور دشمنان اسلام کے ہاتھ کو روک جو تیرے دین کو مٹانے کے لئے اس بے رحمی اور سنگدلی کے ساتھ بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 520-521) پس آج بھی دشمن کے ہاتھ کو روکنے کے لئے دعاؤں کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان لوگوں کی پکڑ کے سامان کرے اور ہمارے لئے بھی آسانیاں پیدا فرمائے۔حضرت سعد بن خولہ ایک صحابی تھے اور بعض کے نزدیک آپ ابن ابی رھم بن عبد العرابی عامری کے آزاد کردہ غلام تھے۔آپ اسلام لائے اور سابقین میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔آپ حبشہ کی طرف دوسری مرتبہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔حضرت سعد بن خولہ نے جب مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو آپ نے حضرت کلثوم بن ھدم کے ہاں قیام کیا۔ابن اسحاق موسیٰ بن عقبہ نے آپ کا ذکر اہل بدر میں کیا ہے۔حضرت سعد بن خولہ جب غزوہ بدر میں شامل ہوئے تو اس وقت آپ کی عمر 25 برس تھی۔آپ غزوہ اُحد ، غزوہ خندق اور صلح حدیبیہ میں شامل تھے۔حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سبیعہ اسلامیہ کے شوہر تھے۔آپ کی وفات حجۃ الوداع کے موقع پر ہوئی۔آپ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد آپ کے بچہ کی پیدائش ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی اہلیہ سے فرمایا کہ تم اب اس پیدائش کے بعد جس سے چاہو نکاح کر سکتی ہو۔آپ کے حجتہ الوداع کے موقع پر فوت ہونے کے بارے میں سوائے طبری کے کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ان کے نزدیک ان کی وفات پہلے ہوئی تھی۔(اسد الغابه جلد 2 صفحہ 2019-20 سعد بن خوله مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء)، (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 217 سعد بن خوله مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) پھر ایک صحابی ہیں حضرت ابوالیم۔حضرت ابوالہیثم بن اللتان انصاری کا اصل نام مالک تھا لیکن اپنی کنیت ابوالبیشم سے مشہور ہوئے۔آپ کی والدہ لیلی بنت عتیک قبیلہ بلی سے تھیں۔اکثر محققین کے نزدیک آپ قبیلہ اوس کی شاخ بلی سے ہیں جو بنو عبد الاشہل کے حلیف تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحه 365 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)،(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 341ابو المثيم بن الشَّيهان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)، (سیر الصحابہ جلد 3 صفحہ 215 ابو اہتیم بناللی هان مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) محمد بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت ابوالہیثم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جاہلیت کے زمانے میں بھی بتوں کی پرستش سے بیزار تھے اور انہیں برا بھلا کہتے تھے۔حضرت اسعد بن زرارہ اور حضرت ابوالہیثم توحید کے قائل تھے۔یہ دونوں ابتدائی انصاری ہیں جنہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 341ابو الهثيم بنالتيهان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) بعض کے نزدیک بیعت عقبہ اولیٰ سے قبل جب حضرت اسعد بن زرارہ چھ آدمیوں کے ساتھ مکہ سے