خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 386

خطبات مسرور جلد 16 386 نہیں دیکھا کہ کسی پر اتنا غم کیا ہو جتنا کہ آپ نے ان قاریوں پر غم کیا۔خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 8 2018- (صحيح البخارى كتاب الجزية باب دعاء الامام على من نكث عهداً حديث 3170) پھر ایک حوالہ ہے ابن ھشام کی سیرت کا۔بہار بن سلمی جو عمر و بن طفیل کے ساتھ اس موقع پر موجود تھے بعد میں یہ مسلمان ہو گئے تھے۔یہ کہتے ہیں کہ میرے اسلام قبول کرنے کی یہ وجہ ہوئی کہ میں نے ایک شخص کے دونوں کندھوں کے درمیان نیزہ مارا۔میں نے دیکھا کہ نیزے کی آٹی اس کے سینہ کے پار ہو گئی۔پھر میں نے اس شخص کو یہ کہتے سنا۔فُزت ورب الكعبة یعنی کعبہ کے رب کی قسم ! میں نے اپنی مراد کو پالیا۔اس پر میں نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ کیسے کامیاب ہو گیا۔کیا میں نے اس شخص کو شہید نہیں کر دیا۔جبار کہتے ہیں کہ میں نے بعد میں ان کے اس قول کے متعلق پوچھا تولوگوں نے بتایا کہ اس کا مطلب شہادت پر فائز ہو نا تھا۔جبار کہتے ہیں کہ میں نے کہا وہ یقیناً خدا کے نزدیک کامیاب ہو گیا۔(السيرة النبويه لا بن هشام صفحه 603 حدیث بئر معونه في صفر سنة اربع مطبوعه دار الكتب العلميه لبنان 2001ء) الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 1 صفحه 337 حرام بن ملحان مطبوعه دارالجيل بيروت 1992ء) دو تین صحابہ کے بارے میں اسی طرح کے واقعات ملتے ہیں۔ملتے جلتے الفاظ ملتے ہیں۔یہ وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا اصل مقصد سمجھتے تھے اور دنیاوی کامیابیاں ان کا اصل مقصد نہیں تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اسی نیت کی وجہ سے ان کے بارے میں اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا۔بئر معونہ کے موقع پر شہادت کے وقت صحابہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ اللَّهُمَّ يَلْغُ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِيْنَاكَ فَرَضِيْنَا عَنْكَ وَرَضِيْتَ عَنَّا۔کہ اے اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حالات سے آگاہ فرما دے کہ ہم تجھ سے جاملے ہیں اور ہم تجھ سے اور تو ہم سے راضی ہے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ساتھی اللہ سے جاملے ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 267 حرام بن ملحان مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس واقعہ کے بارے میں بھی بیان کرتے ہیں کہ واقعات بئر معونہ اور رجیع سے قبائل عرب کے اس انتہائی درجہ کے بغض و عداوت کا پتہ چلتا ہے جو وہ اسلام اور متبعین اسلام کے متعلق اپنے دلوں میں رکھتے تھے۔حتی کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف ذلیل ترین قسم کے جھوٹ اور دغا اور فریب سے بھی کوئی پر ہیز نہیں تھا اور مسلمان باوجود اپنی کمال ہوشیاری اور بیدار مغزی کے بعض اوقات اپنی مومنانہ حسن ظنی میں ان کے دام کا شکار ہو جاتے تھے۔حفاظ قرآن نماز گزار ، تہجد خوان مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ کا نام لینے والے اور پھر غریب مفلس فاقوں کے مارے ہوئے یہ وہ لوگ تھے جن کو ان ظالموں نے دین سیکھنے کے بہانے سے اپنے وطن میں بلایا اور پھر جب مہمان کی حیثیت میں وہ ان کے وطن میں پہنچے تو ان کو نہایت بے رحمی کے ساتھ نہ تیغ کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان واقعات کا جتنا بھی صدمہ ہو تا کم تھا۔مگر اس وقت آپ نے رجیع اور بئر معونہ کے خونی قاتلوں کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہیں فرمائی۔" صدمہ ضرور ہوا لیکن ان کے خلاف