خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 385
خطبات مسرور جلد 16 385 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 17 اگست 8 2018- ستر صحابہ ان کے ساتھ بھیج دیئے جو قرآن کے قاری تھے۔یہ کہتے ہیں کہ ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے۔یہ لوگ قرآن کریم پڑھتے تھے۔رات کو باہم درس دیتے اور علم سیکھتے۔دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھتے۔جنگل سے لکڑیاں چنتے اور بیچ کر اہل صفہ اور فقراء کے لئے غلہ خریدتے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 390 حرام بن ملحان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)،(الاصابه في تمييز الصحابة جلد 8 صفحه 375-376ام حرام بنت ملحان، جلد 8 صفحہ 408-409ام سليم بنت ملحان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت حرام بن ملحان کے بئر معونہ کے واقعہ کا کچھ بیان میں چند مہینہ پہلے خطبہ میں کر چکا ہوں۔بئر معونہ کا باقی واقعہ ایک دو اور جگہ بھی بیان ہو چکا ہے۔اس بارے میں بخاری کی بعض روایات ہیں جو پیش کرتا ہوں جو پہلے بیان نہیں ہوئیں۔حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ جب حضرت حرام بن ملحان کو بئر معونہ والے دن نیزہ مارا گیا تو انہوں نے اپنا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے منہ اور اپنے سر پر چھڑ کا اور اس کے بعد کہا فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ کعبہ کے رب کی قسم ! میں نے مراد پالی۔(صحيح البخاری کتاب المغازى باب غزوة الرجيع و رعل حدیث 4092) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رعل، ذکوان، خصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور کہا کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں اور انہوں نے آپ سے اپنی قوم کے مقابلہ کے لئے مددمانگی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ستر انصار صحابہ سے مدد کی۔حضرت انس کہتے تھے کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔دن کو وہ لکڑیاں لاتے اور رات کو نمازیں پڑھتے۔وہ لوگ انہیں لے گئے۔جب بئر معونہ پر پہنچے تو انہوں نے ان سے غداری کی اور انہیں مار ڈالا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اور بعض روایات میں چالیس دن تک نماز میں کھڑے ہو کر ر عل اور ذکوان اور بنو حیان کے لئے بد دعا کرتے رہے۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد والسير باب العون بالمدد حديث 3064، باب من ينكب او يطعن في سبيل الله حدیث 2801) حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ جب قاری لوگ شہید کئے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر کھڑے ہو عاجزی سے دعا کی۔اور بخاری کی دوسری روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی اس سے بڑھ کر غم کیا ہو۔(صحيح البخاري كتاب الجنائز باب من جلس عند المصيبة الح حديث (1300) پھر ایک روایت یہ ہے حضرت انس سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد کھڑے ہو کر ایک مہینے تک بنو سلیم کے چند قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے قاریوں میں سے چالیس یا ستر آدمیوں کو بعض مشرک لوگوں کے پاس بھیجا تو یہ قبائل آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا حالا نکہ ان کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔پھر اس میں بھی وہی بیان ہے کہ میں نے آپ کو کبھی