خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 384

خطبات مسرور جلد 16 384 2018- خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 8 حضرت عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ زید بن عمرو نے کہا میں نے اپنی قوم کی مخالفت کی۔ملت ابراہیمی کی اتباع کی۔مجھے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک نبی کے ظہور کا انتظار تھا جن کا اسم گرامی احمد ہو گا۔لیکن یوں لگتا ہے کہ میں انہیں پا نہ سکوں گا۔میں ان پر ایمان لاتا ہوں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ نبی ہیں۔اگر تمہیں ان کا عہد نصیب ہو جائے تو میر اسلام پیش کرنا۔میں تمہیں ان کی ایسی علامات بتاتا ہوں کہ وہ تمہارے لئے مخفی نہیں رہیں گے۔وہ نہ طویل قامت ہیں ، نہ ہی پست قامت۔ان کے بال نہ کثیر ہوں گے ، نہ قلیل۔ان کی آنکھوں میں سرخی ہر وقت رہے گی۔ان کے کندھوں کے مابین مہر نبوت ہو گی۔ان کا نام احمد ہو گا۔یہ شہر مکہ ان کی جائے ولادت اور بیعت کی جگہ ہو گی۔پھر ان کی قوم انہیں یہاں سے نکال دے گی۔وہ ان کے پیغام کو نا پسند کرے گی۔پھر وہ میثرب کی طرف ہجرت کریں گے۔پھر ان کا امر غالب آجائے گا۔ان کی وجہ سے دھو کہ میں نہ پڑنا۔میں نے دین ابراہیمی کی تلاش میں سارے شہر چھان مارے ہیں۔میں نے یہودیوں ، عیسائیوں اور آتش پرستوں سب سے پوچھا ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ یہ دین تمہارے پیچھے ہے۔انہوں نے مجھے وہی علامات بتائیں جو میں نے تمہیں بتائی ہیں۔انہوں نے بتایا ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔حضرت عامر نے کہا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زید کے بارے میں بتایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے جنت میں دیکھا ہے وہ اپنا دامن گھسیٹ رہا تھا۔(سبل الهدى والرشاد جلد اوّل صفحہ 116 فيما اخبر به الاحبار والرهبان۔۔۔الخ مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت (1993 یہ جو روایت ہے کہ نبی نہیں آئے گا۔اس سے یہ بھی مراد نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امتی نبی کی جو پیشگوئی کی تھی وہ غلط ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہی آخری شرعی نبی ہیں اور کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی اور جو بھی آنے والا آئے گا آپ کی غلامی میں ہی آئے گا۔یہی ہمیں احادیث سے اور قرآن کریم سے بھی پتہ لگتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر کی حضرت یزید بن منذر سے مواخات قائم فرمائی تھی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 296 ومن حلفائ بنى عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت عامر بن ربیعہ نے حضرت عثمان کی شہادت کے چند دن بعد وفات پائی۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 119 عامر بن ربيعه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) دوسرے صحابی ہیں حضرت حرام بن ملحان۔حضرت حرام بن ملحان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عدی بن نجار سے تھا۔آپ کے والد ملحان کا نام مالک بن خالد تھا۔حضرت حرام بن ملحان کی والدہ کا نام ملیگہ بنت مالک تھا۔آپ کی ایک بہن حضرت اُم سلیم تھیں جو حضرت ابو طلحہ انصاری کی اہلیہ اور حضرت انس بن مالک کی والدہ تھیں۔آپ کی دوسری بہن حضرت ام حرام حضرت عبادہ بن صامت کی اہلیہ تھیں۔حضرت حرام بن ملحان حضرت انس کے ماموں تھے اور غزوہ بدر اور اُحد میں شریک تھے اور بئر معونہ کے دن شہید ہوئے تھے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ ہمارے ساتھ ایسے آدمیوں کو بھیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے