خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 383

خطبات مسرور جلد 16 383 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018 سے جنازہ کو دیکھے اور اس کے ساتھ جانا نہ چاہے تو چاہئے کہ کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ وہ جنازہ اسے پیچھے چھوڑ دے یار کھ دیا جائے۔عبد اللہ بن عامر اپنے والد حضرت عامر سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک رات نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ لوگ حضرت عثمان کی بابت اختلاف کر رہے تھے۔اس وقت فتنہ کا آغاز ہو گیا تھا اور حضرت عثمان پر طعن کرتے تھے تو کہتے ہیں کہ نماز کے بعد وہ سو گئے تو خواب میں انہوں نے دیکھا کہ انہیں کہا گیا کہ اٹھ اور اللہ سے دعا مانگ کہ تجھے اس فتنہ سے نجات دے جس سے اس نے اپنے نیک بندوں کو نجات دی ہے۔چنانچہ حضرت عامر بن ربیعہ اٹھے اور انہوں نے نماز پڑھی اور بعد اس کے اسی حوالے سے دعا مانگی۔چنانچہ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئے اور پھر وہ خود گھر سے نہیں نکلے۔ان کا جنازہ ہی نکلا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 118 119 عامر بن ربيعه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فتنہ سے بچنے کی یہ صورت بنائی۔حضرت عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں طواف کے دوران رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھار سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا۔میں نے عرض کی یارسول اللہ مجھے دیں میں ٹھیک کر دیتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ترجیح دینا ہے اور میں ترجیح دیئے جانے کو پسند نہیں کرتا۔(شرح زرقانی جلد 6 صفحہ 49 الفصل الثاني فيما اكرمه الله تعالى به من الاخلاق الزكية مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) اس حد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر particular تھے کہ اپنے کام خود کرنے ہیں۔ایک شخص حضرت عامر بن ربیعہ کا مہمان بنا انہوں نے اس کی خوب خاطر تواضع کی اور اکرام کیا اور ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی بات کی۔وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے حضرت عامر کے پاس آیا اور کہا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی وادی بطور جاگیر مانگی تھی کہ پورے عرب میں اس سے اچھی وادی نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ عطا فرما دی ہے۔اب میں چاہتا ہوں کہ اس وادی کا ایک ٹکڑہ آپ کو دے دوں جو آپ کی زندگی میں آپ کا ہو اور آپ کے بعد آپ کی اولاد کے لئے ہو۔حضرت عامر نے کہا کہ مجھے تمہارے اس ٹکڑے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جس نے ہمیں دنیا ہی بھلا دی ہے اور وہ یہ ہے کہ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ (الانبياء:2 )۔( حياة الصحابه از محمد یوسف الکاندھلوی جلد 2 صفحہ 523 باب انفاق الصحابه في سبيل الله مطبوعه موسسة الرسالة ناشرون 1999ء) کہ لوگوں کے لئے ان کا حساب قریب آگیا ہے اور وہ باوجود اس کے غفلت کی حالت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے خوف اور خشیت کی یہ حالت تھی ان چمکتے ہوئے ستاروں کی۔اور یہی وہ لوگ تھے جو حقیقی طور پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے تھے۔