خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 382
خطبات مسرور جلد 16 382 33 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 17 اگست 2018ء بمطابق 17 ظہور 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج بھی میں چند بدری صحابہ کا ذکر کروں گا ان میں سے پہلے ہیں حضرت عامر بن ربیعہ۔ان کا خاندان حضرت عمر کے والد خطاب کا حلیف تھا جنہوں نے حضرت عامر کو متبنی بنایا ہوا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ پہلے عامر بن خطاب کے نام سے مشہور تھے لیکن جب قرآن کریم نے ہر ایک کو اپنے اصلی آباء کی طرف انتساب کا حکم دیا تو اس کے بعد عامر بن خطاب کے بجائے اپنے نسبی والد ربیعہ کی نسبت سے عامر بن ربیعہ پکارے جانے لگے۔یہاں ان لوگوں کے لئے اس بات کی وضاحت ہو گئی ہے جو اپنے رشتہ داروں کے ، عزیزوں کے بچے adopt کرتے ہیں اور بڑے ہونے تک ان کو یہی نہیں پتہ ہو تا کہ ان کا اصل والد کون ہے اور شناختی کارڈ وغیرہ سرکاری کاغذات وغیرہ پر بھی اصل والد کے نام کے بجائے اس والد کا نام ہوتا ہے جس نے ان کو adopt کیا ہوتا ہے۔اور پھر بعد میں اس وجہ سے بعض مسائل پیدا ہوتے ہیں۔پھر لوگ خطوط لکھتے ہیں کہ اس طرح کر دیا جائے، اس طرح کر دیا جائے۔اس لئے ہمیشہ قرآنی حکم کے مطابق عمل کرنا چاہئے سوائے ان بچوں کے جو اداروں کی طرف سے ملتے ہیں یا لئے جاتے ہیں ،adopt کئے جاتے ہیں اور ان کے والدین کے بارے میں بتایا نہیں جاتا۔بہر حال اس وضاحت کے بعد آگے ان کے بارے میں بیان کرتا ہوں۔یہ جو بیان ہوا تھا کہ ان کے حلیف تھے اس حلیفانہ تعلق کے باعث حضرت عمر اور حضرت عامر میں آخر وقت تک دوستانہ تعلقات قائم رہے۔یہ بالکل ابتداء میں ایمان لے آئے تھے۔جب ایمان لائے اس وقت تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دارِ ار قم میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔(سیر الصحابہ جلد 2 صفحہ 333 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی) حضرت عامر اپنی بیوی لیلیٰ بنت ابی حشمہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔پھر اس کے بعد مکہ لوٹ آئے۔وہاں سے اپنی بیوی کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔حضرت عامر بن ربیعہ کی اہلیہ کو سب سے پہلے مدینہ ہجرت کرنے والی عورت کا اعزاز حاصل ہے۔آپ بدر اور تمام غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔آپ کی وفات 32 ہجری میں ہوئی۔آپ قبیلہ عز سے تھے۔حضرت عامر بیان کرتے ہیں کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص تم میں