خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد 16 30 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 قادیان بھی جارہے تھے۔جلسہ کے علاوہ کے دن تھے۔مجھے بتایا کہ میں نے قادیان جا کر بیت الدعا میں اس بچی کیلئے خاص دعا کی ہے۔کہتی ہیں کہ الحمد للہ وہ بچی راہ راست پر آگئی۔اس کی شادی بھی ہو گئی اور جب شادی ہوئی تو اس کو بہت خوبصورت زیور کا ایک سیٹ بھجوایا۔بعد میں بھی پوچھتے رہے۔بڑے شفیق تھے۔کہتی ہیں میں نے جب بھی آپ سے مشورہ مانگا بڑا صحیح مشورہ دیا۔انتہائی دعا گو تھے۔اب ایسا بزرگ کہاں ملے گا۔دل اتنا گر از ہے۔یہ مجھے لکھ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ خلافت کو نعم البدل عطا کرے اور اللہ تعالیٰ خاندان میں بھی ان کی جگہ لینے والا عطا فرمائے۔چوہدری حمید اللہ صاحب۔وکیل اعلیٰ تحریک جدید ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ تعلیم الا سلام کالج جب 1954ء میں لاہور سے ربوہ منتقل ہوا تو جو انگریزی پڑھانے والے غیر احمدی استاد تھے وہ لاہور میں ہی رہ گئے اور ربوہ نہیں آئے۔اس کے بعد محترم میاں خورشید احمد صاحب نے ہی 1956ء میں انگریزی شعبہ کو نئے سرے سے آرگنائز کیا۔آپ کی اپنی انگلش بہت اچھی تھی۔ہمیں یاد ہے کہ آپ کے دور میں کالج میں انگلش کا معیار بہت بہتر ہوا۔پھر ان کے بارے میں چوہدری حمید اللہ صاحب ہی لکھتے ہیں کہ بہت نرم طبیعت کے مالک تھے۔عفو و در گذر بہت تھا۔غرباء کی ذاتی حیثیت سے بھی اور جماعتی عہدیدار کی حیثیت سے بھی بہت پرورش کیا کرتے تھے۔پھر کہتے ہیں کالج کے زمانہ، جلسہ سالانہ ، خدام الاحمدیہ، انصار الله ، قادیان کے جلسوں کے انتظامات تمام امور میں میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔لوگوں کی غمی خوشی میں ضرور شریک ہوا کرتے تھے۔شادی ہو یا وفات ہو ضرور پہنچا کرتے تھے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے پرانے کارکن فوت ہو گئے اور میاں صاحب کو پتانہ لگا جس کا آپ کو بڑا افسوس تھا۔نظارت علیاء کے کارکن طفیل صاحب کہتے ہیں کہ بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ان کو بیان کرنا تو ممکن نہیں۔آپ نہایت شفیق اور محبت کرنے والے اور ملنسار ، نہایت نرم دل، دکھی اور مشکلات میں مبتلا لوگوں کے ساتھ نہایت درجہ ہمدردی کرنے والے،سادہ طبیعت کے لیکن نہایت پر وقار شخصیت کے مالک بہت ہی پیارے وجود تھے۔خاکسار کو کم و بیش دس سال آپ کی صحبت اور زیر سایہ کام کرنے کا موقع نصیب ہوا اور خاکسار کو یاد نہیں پڑتا کہ آپ نے کبھی کسی وجہ سے ناراضگی یا غصہ کا اظہار کیا ہو۔اگر کبھی کوئی غلطی سرزد ہو بھی جاتی تو نہایت شفقت، نرمی اور پیار سے رہنمائی کرتے۔پھر خواجہ مظفر صاحب مربی جو نظارت علیا میں ہی کام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ نے طویل صبر آزما بیماری کا نہایت حوصلے اور وقار کے ساتھ مقابلہ کیا۔خاکسار کو آپ کے قرب میں رہ کر لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔آپ انتہائی مہربان ، باپ سے بڑھ کر شفیق، رحمدل اور خدمت خلق کے انتہائی مقام پر فائز تھے۔متعدد بار خاکسار کو تجربہ ہوا کہ جب کوئی ضرور تمند عورت یا مرد آتا آپ سے ملاقات کروائی جاتی۔آپ راشن چار پائی، ٹی وی، بستریا مالی امداد کی منظوری دیتے۔لیکن بعض اوقات کسی ضرورت مند کے جانے کے بعد مجھے روک کر ہدایت کرتے کہ ان کے گھر جاکر ان کے بارے میں معلوم کرو پھر مجھے بتاؤ۔اور یہ مربی صاحب کہتے ہیں کہ دوسرے روز جب میں رپورٹ دیتا تو کہتے کہ دل کہتا تھا کہ یہ زیادہ ضرورت مند ہیں اور اتنی اس کی مدد نہیں کی گئی ہے۔تو صرف یہی نہیں کہ مطالبہ پر بلکہ اپنے طور پر بھی تحقیق کرواتے تھے تا کہ جائز مدد کی جا سکے۔یہ لکھتے ہیں انتہائی محسن، متحمل مزاج،