خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 380
خطبات مسرور جلد 16 380 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 کے ذریعہ سے بھی آٹھ لاکھ باسٹھ ہزار مرتبہ وزٹ کیا گیا اور ویڈیوز بھی دولاکھ اٹھارہ ہزار لوگوں نے دیکھیں۔آن لائن اور پرنٹ اخبارات میں جلسہ کے حوالے سے جو خبریں شائع ہوئی ہیں ان کی تعداد 53 ہے۔ریڈیو پر بیس خبریں نشر ہوئیں۔ٹی وی پر چار خبریں نشر ہوئیں۔کل ملا کر رپورٹس کی تعداد ستنتر (77) بنتی ہے۔اس کے ذریعہ سے چھبیس ملین سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچا۔مشہور ٹی وی ریڈیو چینل میڈیا جو کوریج دینے والے ہیں ان میں بی بی سی ٹی وی ہے، آئی ٹی وی ہے، بی بی سی عربک ہے ، دی اکانومسٹ رسالہ ، دی ایکسپریس، انڈیپنڈنٹ، ہفنگٹن پوسٹ ہیرلڈ، ایل بی سی، کیپیٹل ریڈیو، آلٹن ہیرلڈ، لندن لائیو۔اس کے ، علاوہ بی بی سی کے انیس ریجنل ریڈیو سٹیشنز پر اتوار والے دن ہمارے نمائندگان کو وقت دیا گیا۔اس کے ذریعہ بڑی آبادی کو ر ہوئی۔دنیا بھر کے جر نلسٹ آئے ہوئے تھے وہ بھی واپس جا کر اپنے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اس حوالے سے خبریں اور ڈاکیومینٹریز دیں گے۔ایک جاپانی نیوز ایجنسی کے صحافی کہتے ہیں کہ میں جلسہ سالانہ کے پر امن ماحول سے بہت متاثر تھا اور سب کے چہروں پر خوشی مجھلکتی تھی مگر عالمی بیعت کے موقع پر اتنی کثیر تعداد میں شاملین سسک سسک کر رو کیوں رہے تھے ؟ اس پر انہیں بعد میں بتایا گیا کہ احمدی مسلمان ہر ایک خوش تھا لیکن اس وقت رو ر ہے تھے کہ احمدی مسلمان خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کر رہے تھے اور دنیا میں امن وسلامتی کے لئے دعا کر رہے تھے۔ایک صحافی خاتون مستورات کے جلسہ گاہ کے بارے میں کہتی ہیں کہ گزشتہ سال مجھے جلسہ میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا لیکن مستورات والے حصہ میں نہیں جا سکی۔اس سال مجھے مستورات کی طرف جانے کا موقع ملا۔مجھے کہنا پڑے گا کہ آپ کی خواتین مرد حضرات سے زیادہ پڑھی لکھی اور دلچسپ ہیں۔وہ ہر لحاظ سے آزاد تھیں اور اپنی جماعت کے ساتھ نہایت مخلص معلوم ہوتی تھیں۔میرے لئے یہ بہت متاثر کن تجربہ تھا۔اس سال افریقہ میں جلسہ کی کوریج جو ہوئی ہے پندرہ ٹی وی چینلز نے جلسہ یو کے کی کارروائی نشر کی جن میں گھانا، نائیجیریا، سیر الیون، گیمبیا، روانڈا، برکینا فاسو، بین، یوگنڈا، مالی، کو نگو برازاویل اور پہلی مرتبہ برونڈی ٹیلی ویژن نے بھی جلسہ کی کارروائی نشر کی۔متفرق صحافیوں نے اپنے اپنے چینلز پر نیوز سٹوریز دیں۔مجموعی طور پر اس سے پچاس ملین افراد تک افریقہ میں جلسہ کی کارروائی دکھائی گئی۔اس حوالہ سے سینکڑوں تاثرات بھی موصول ہوئے ہیں۔پتہ لگتا ہے کہ لوگوں نے دیکھا۔بہر حال یہ تو ایک بہت لمبی تفصیل ہے جو لوگوں کے اظہار خیال کی بھی ہے اور پریس کی بھی ہے۔اسی طرح دوسرے شعبوں کے بارے میں جنہوں نے غیر معمولی اثر چھوڑا ہے۔تصویری نمائش، ریویو کے علاوہ آر کائیو اور الحکم کی نمائش وغیر ہ اور اس کی وجہ سے لوگوں کو جماعت کی تاریخ کا علم ہوا۔جلسہ کے انتظامات بھی اور ان نمائشوں وغیرہ میں بھی سب جو کام کرنے والے تھے رضا کار ہی تھے۔اور جیسا کہ تاثرات سے بھی ظاہر ہے کہ یہ سب رضا کار ایک خاموش تبلیغ کر رہے تھے۔بچے بھی، عورتیں بھی اور مرد بھی۔اس مر تبہ عام طور پر شامل ہونے والے لجنہ کی طرف سے بھی اور مردوں کی طرف سے بھی،