خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 379
خطبات مسرور جلد 16 379 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 طور پر لوگوں سے سننے میں آتا ہے لیکن ہر ایک اس بات پر یقین نہیں کر پاتا۔انہیں کہیں تو اسلام کے بارے میں معلومات کی کمی ہے، کہیں بہت سی غلط فہمیاں ہیں اور کہیں اسلام کی مشکل شکلیں ہیں جو اس بات پر لوگوں کو یقین کرنے نہیں دیتیں کہ یہ عالمی مذہب ہے۔لیکن جلسہ سالانہ کا ماحول شکوک وشبہات کی تمام دیواریں گرا دیتا ہے۔اس معیار کی کسی بھی تقریب میں شمولیت کا یہ میرا پہلا تجربہ ہے جس میں پہلی مرتبہ میں نے مسلمانوں کے ماحول کا اتنے قریب اور توجہ سے مطالعہ کیا۔اس جلسہ سالانہ میں نہایت دلچسپ چیزیں تھیں۔مختلف ممالک کے نمائندگان اپنے قومی لباس میں یہاں موجود تھے۔جلسہ سالانہ کے انتظامات بھی انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔دو سو آدمیوں کی تقریب کا انتظام کرنا ہو تو مشکل ہو جاتا ہے لیکن اڑتیس ہزار لوگوں کا انتظام انہوں نے کس طرح کیا یہ بات واقعۂ حیرت زدہ کر دیتی ہے۔میں تمام رضا کاروں کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جلسہ کے بہترین انتظامات کئے۔کارکنوں کے ، رضاکاروں کے ضمن میں یہ بھی بتادوں کہ اس دفعہ بھی کینیڈا سے تقریباً 140 خدام وائنڈ اپ کے کام کرنے کے لئے آئے تھے جنہوں نے اچھا کام کیا۔علاوہ ان خدام کے جو ٹو کے کے تھے۔ان کا بھی شکریہ۔اس کے علاوہ تبلیغی ڈیپارٹمنٹ یو کے کو بھی اس سال سیمینار اور سوال وجواب کی مجالس لگانے کے علاوہ پانچ نمائشیں لگانے کا بھی موقع ملا۔القرآن نمائش، قرآن کریم کی خوبصورت تعلیمات کو اجاگر کرنا تھا۔مختلف قسم کے قرآن کریم اس میں رکھے گئے۔اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سپیچ کونٹیسٹ (Speech contest) تھا۔ہالینڈ کے سیاستدان ولڈ رز (Wilders) کی طرف سے جو hate campaign چلائی گئی ہے اس کے جواب میں یہ تقریری مقابلہ ہوا تھا۔کئی غیر احمدی اور غیر مسلم یورپین افراد نے بھی شرکت کی۔ایک خاتون کیتھرین میری روحان (Katherine Mary Rohan) صاحبہ عیسائی ہیں۔کہتی ہیں عورت ہونے کی حیثیت سے مجھے اس بات سے دلچسپی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں کے بارے میں کیا رائے تھی۔وہ ایک ایسے وقت میں آئے جبکہ یورپ میں افرا تفری کا عالم تھا۔ایسے زمانے میں انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم اپنی عورتوں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں گے۔اسی طرح ایک بار کسی پوچھنے والے نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زندگی میں سب سے زیادہ احترام کا حقدار کون ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا تمہاری ماں۔اس نے کہا پھر اس کے بعد کون ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا تمہاری ماں۔اور تیسری دفعہ پوچھنے پر بھی فرمایا تمہاری ماں۔کہتی ہیں اس بات نے مجھے بڑا متاثر کیا ہے۔(صحيح البخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن صحبة حديث 5971) اسی طرح تبلیغ ڈیپارٹمنٹ کی ایک مہمان تھیں لینیٹ گو میلمن کہتی ہیں اس سال پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں شرکت کا موقع ملا۔میر اخیال ہے کہ ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کم علم رکھتا ہو جلسہ سالانہ میں شامل ہو جائے تو جلسہ کے اختتام پر اس موضوع پر اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں علم کا سمند رلے کر لوٹے گا۔جلسہ کی جو دنیا میں مختلف ذرائع سے تشہیر ہوئی ہے اس میں میڈیا نے جو کیا وہ تو ہے۔الاسلام ویب سائٹ