خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 378

خطبات مسرور جلد 16 378 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 اخلاقی ماڈل اور آپ لوگوں کی اچھائی بیان کرنا ہی میرے لئے ایک key point ہے۔پھر سپین کے ایک اور صاحب ہیں کہتے ہیں مجھے گہرائی سے کلچر اور آپ کے مذہب کو جاننے کا موقع ملا ہے۔بہت عمدہ مہمان نوازی تھی۔اس کے علاوہ تقاریر بھی بہت دلچسپ تھیں۔پھر سپین کے ایک اور صاحب کہتے ہیں کہ جلسہ میں شمولیت سے اس بات کا مکمل یقین ہوا ہے کہ حقیقی اسلام کا دہشت گردی اور خون خرابے سے ڈور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔جمیکا سے ایک غیر از جماعت خاتون اوئیڈا نیسیتھ (Ouida Nesbeth) صاحبہ شامل ہوئیں۔اکاؤنٹنٹ ہیں پڑھی لکھی عورت ہیں۔کہتی ہیں کہ میں گزشتہ پانچ سال سے جماعت احمدیہ سے رابطہ میں ہوں۔اس عرصہ کے دوران میر اجماعت کے ساتھ تعلق اور تعارف تو کافی تھا لیکن اس جلسہ میں شامل ہونے کے بعد اس میں بہت وسعت پید اہوئی ہے اور اسلام کے متعلق ذہن میں جو بھی شکوک تھے ان کا ازالہ ہو گیا ہے۔مجھے یہ بات بہت اچھی لگی کہ عور تیں اور مرد علیحدہ علیحدہ تھے۔(ایک طرف سے اعتراض ہو تا ہے لیکن عورتوں کو یہ بات اچھی لگی) اس وجہ سے لوگوں کی توجہ بٹتی نہیں ہے۔خود انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ جب ہم اکٹھے ہوتے ہیں تو مردوں کی نظریں ٹھیک نہیں ہو تیں۔کہتی ہیں کہ عورتیں اور مرد علیحدہ علیحدہ تھے اس وجہ سے لوگوں کی توجہ بٹتی نہیں ہے اور لوگ اسلام اور عبادت پر زیادہ توجہ دے پاتے ہیں۔پس احمدی عورتیں بھیجو کسی وقت کسی قسم کے کمپلیکس میں مبتلا ہیں ان کو بھی اس کے comment پر سوچنا چاہئے۔اٹلی کی پروفیسر رفائیلا (Raffaela) صاحبہ ایک سٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر ہیں۔کہتی ہیں کہ بیعت کے دوران احمدیوں کی جو ایمان کی حالت تھی وہ غیروں کو بھی محسوس ہوئی ہے۔میں نے سائیکالوجی پڑھی ہے اور مجھے انسان کے چال چلن اور رویے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شخص اپنے ایمان کے دعوے میں کتنا سنجیدہ ہے اور مجھے احمدیوں کو دیکھ کر یقین ہو گیا ہے کہ آپ لوگوں کے ایمان کا معیار بہت بلند ہے۔جب انہیں پتہ چلا کہ دوران سال چھ لاکھ سے زائد بیعتیں ہوئی ہیں تو کہنے لگی کہ شکر ہے یہ لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔اٹلی کی ایک مہمان عورت جو اور سنٹلسٹ (Orientalist) ہیں۔مستشرقہ ہیں۔اور ویٹیکن کے ایک رسالے کی صحافی بھی ہیں۔کہتی ہیں کہ جلسہ پر آکر جماعت کے کاموں کا کچھ اندازہ ہوا ہے۔ہمیں دنیا کو ایک ایسی منظم اور پر امن اسلامی جماعت کی خبر دینی چاہئے۔جماعت احمدیہ مسلمانوں کے درمیان بات چیت کے ذریعہ سے مسائل حل کرانے کے لئے بہت کوششیں کر رہی ہے۔آپ لوگوں کے پراجیکٹس، پروگراموں اور خدمات کا علم ساری دنیا کو ہونا چاہئے۔بیلار شین یونیورسٹی کے وائس ریکٹر سرگئی شتر اوسکی صاحب کہتے ہیں بحیثیت ایک ماہر مذہب جسے اسلام کے بارے میں نہایت سرسری معلومات حاصل ہیں (ماہر مذہب تو ہوں لیکن اسلام کے بارے میں سرسری معلومات حاصل ہیں ) لیکن جلسہ سالانہ میں شرکت کرنا میرے لئے نہایت قیمتی ناقابل فراموش اور نہایت فائدہ مند تجربہ تھا۔اس جلسہ کی بدولت جو حقیقت مجھے معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ اسلام ایک عالمی مذہب ہے۔یہ جملہ عام