خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 377

خطبات مسرور جلد 16 377 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 مہارت سے اپنے کام کرتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔خدام بھی یہ بات یادر کھیں کہ یہ تعریف ان کو مزید خدمت کی طرف متوجہ کرنے والی ہونی چاہئے۔پھر ایک چیف رو گر ریڈمین (Roger Redman) کہتے ہیں کہ مجھے سگریٹ نوشی کی بہت عادت ہے اور ہم لوگ تمباکو کا استعمال کرتے ہیں بلکہ ہمارے قبیلے میں یہ ہے کہ سگریٹ نوشی اور تمباکو کا استعمال فرسٹ نیشن کے لوگوں کا ایک مذہبی رکن ہے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تمباکو کا استعمال روحانیت میں ترقی کے لئے خاص عنصر ہے۔مگر جلسہ سالانہ کے موقع پر جب خلیفہ وقت نے جماعت کے لوگوں کو یہ کہا کہ سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنا ہے۔تو چیف نے کہا کہ میں نے بھی عہد کیا اور اس بات کا اظہار بھی کیا کہ میں جلسہ کے دنوں میں سگریٹ نوشی سے پر ہیز کروں گا اور پھر یہ اپنے وعدے پر قائم بھی رہے۔پس یہ بات احمدیوں کے لئے بھی سبق ہے بلکہ کسی نے مجھے کہا کہ جو لمبی فلائٹس ہوتی ہیں دس بارہ گھنٹے کی ان میں بھی تو نو سموکنگ ایریا (no smoking area) ہوتا ہے۔فلائٹ کے دوران سموکنگ (smoking) نہیں کر سکتے۔اس وقت بھی صبر کرتے ہیں تو جلسہ میں کر لیں گے تو ثواب بھی ہو گا۔پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کے خطاب کو سننے کے بعد میرا تاثر یہ ہے کہ اگر اسلام کی تعلیم محبت کرنا، امن پھیلانا اور انسانیت سے ہمدردی ہے جیسا کہ آپ نے اپنے خطاب میں بیان کیا ہے تو میں ضرور ایک احمدی مسلمان بننا پسند کروں گا۔اور پھر چیف نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی ایسے وعدے سے پہلے اپنے بزرگوں سے مشورہ کریں گے۔کیونکہ یہ لوگ اپنی روایات کو بھی بڑا سنبھال کے رکھتے ہیں۔پھر فرسٹ نیشن کے ایک چیف لی کر اوچائلڈ (Lee Crowchild) کہتے ہیں جو عزت اور محبت ہمیں اس جلسہ پر ملی ہے وہ ہماری صدیوں پرانی تعلیم سے مشابہت رکھتی تھی۔جیسا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اخوت سے رہتے تھے۔ہماری تمام ضروریات پوری کی گئیں۔کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے بارے میں ایک رائے امریکہ والے رکھتے ہیں اور ایک رائے کینیڈا کے لوگ۔مگر نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے بعض لوگ بھی مسلمانوں کے متعلق مثبت سوچ نہیں رکھتے۔مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ ہم خود اپنے دشمن ہیں۔کہتے ہیں میں نے جماعت احمدیہ میں دیکھا ہے کہ نہ تو یہ لوگ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں، نہ ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں۔پس یہ ہر ایک کے اعلیٰ نمونے ہیں جو انہیں متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔سپین کے وفد میں شامل ایمیلو لوپیز (Emilo Lopez) صاحب کہتے ہیں میں پہلی بار جلسہ میں شامل ہوا ہوں۔جماعت احمدیہ کے ساتھ میرا گہرا تعلق ہے۔جلسہ بہت ہی دلچسپ تھا اور پھر دوسروں کے لئے tolerance اور عزت اور امن کا پیغام تھا۔اسی طرح دوسرے مذاہب اور انسان کی قدر بھی ایک انوکھا پیغام ہے۔احمدیوں کی مثال زندہ رکھنے والی ہے۔کاش یہ اقدار، اخلاص ہر کوئی اپنا لے۔پھر سپین کے وفد کے ایک صاحب جو قرطبہ اخبار میں کام کرتے ہیں کہتے ہیں تمام جلسہ کے شاملین کا