خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 376
خطبات مسرور جلد 16 376 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 بات کا میں نے سب سے زیادہ اثر لیا وہ خلیفہ وقت کے خطبات تھے۔خصوصاً تربیت اولاد کے حوالے سے آپ کا خطاب کہ بچوں کی تربیت اور ان کی نگرانی کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور خاص طور پر موبائل وغیرہ کے استعمال کا ذکر کیا کہ کس طرح یہ چیزیں فیملی کی اکائی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔یہ ایک عالمی پیغام تھا۔کیونکہ دنیا میں ہر فیملی کو یہی مسائل در پیش ہیں۔اگر ایک فیملی بطور فیملی اکٹھی نہ رہے اور افراد کا آپس میں تعلق نہ ہو تو وہ بکھر جاتی ہے اور فیملی کے بکھرنے سے سارا معاشرہ اور اکائی بکھر جاتی ہے اور اچھے مستقبل کی ضمانت نہیں رہتی۔جارج کرینو (Jorge Carino) صاحب فلپائن سے آئے تھے۔بڑے ٹی وی چینل اے بی ایس۔سی بی این (ABS-CBN) کے معروف مارننگ شو کے میزبان ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ یہ میری زندگی میں پہلا موقع تھا کہ میں نے اس قدر کثیر تعداد میں مختلف ملکوں اور رنگ و نسل کے لوگوں کو ایک جگہ جمع دیکھا۔ہر شخص خواہ وہ کسی بھی ملک سے ہو خواہ لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہوں یا نہیں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے اور سلام کرتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے جمع ہونے کا مقصد صرف اور صرف محبت اور انسانی اقدار کو پھیلانا تھا۔کہتے ہیں بطور صحافی مجھے ہزارہا جلسے دیکھنے کا موقع ملا مگر جس قدر سکون، تحمل اور نظم و ضبط کے ساتھ جلسہ سالانہ یو کے کے انتظامات اور کارروائی ہوئی ہے اس کی مثال میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔رضا کاروں نے جس قدر محبت کے ساتھ ہماری عزت افزائی فرمائی اور ہماری ہر ایک ضرورت کا خیال رکھا اس نے بھی میرے دل پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔کہتے ہیں ٹریفک کنٹرول کی بات ہو یا گرمی دور کرنے کے لئے مشروب پلانا ہو، چھوٹے چھوٹے بچے بڑی محنت سے یہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔اور کہتے ہیں مجھے انتہائی خوشی ہے کہ میں اس جلسہ میں شامل ہوا کیونکہ اس جلسہ نے میرے ذہن کو پہلے کی نسبت بہت زیادہ کھول دیا ہے اور مجھے ایک نیا زاویہ نظر دیا ہے۔جلسہ اس لحاظ سے میری زندگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کی وجہ سے مجھے ایک نئے کلچر تہذیب و تمدن کو دیکھنے کا موقع ملا جو فلپائن کے کلچر سے مختلف ہے۔پھر یونانی مہمان مارسیامائنز صاحبہ کہتی ہیں کہ یہ بالکل ناممکن ہے کہ اس تجربہ کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے جو اڑ تیس ہزار لوگوں کا حصہ بنتے ہوئے جو امن کے لئے دعا گو ہیں حاصل ہوتا ہے۔جلسہ کے موقع پر جو رحم اور محبت کے جذبات سب کی طرف سے ملے یہ تجربہ نہایت متاثر کرنے والا تھا جس نے میری امیدوں کو مزید بلند کر دیا ہے کہ باوجود ہمارے اختلافات کے کس طرح انسانیت دنیائے امن کے نئے دور میں رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرتے ہوئے داخل ہونے کی طاقت رکھتی ہے۔جس سے ہماری انسانیت کی ترقی میں یہ معیاری قدم ممکن نظر آتا ہے۔پھر کینیڈا سے انڈیجنس (Indigenous) لوگوں کے جو فرسٹ نیشن کہلاتے ہیں ان کا وفد بھی شامل ہوا تھا جنہوں نے سروں پہ اپنے روایتی بڑے بڑے تاج پہنے ہوئے تھے۔قبائلی لوگ تھے۔ان کے تین قبائل کے چیف اور ایک ان کا یوتھ لیڈر شامل تھا۔ان کے یوتھ لیڈر میکس فینڈے (Max Fineday) کہتے ہیں کہ ہمیں خدام کے جلسہ سالانہ پر رضا کارانہ خدمت نے بہت متاثر کیا۔ہم واپس جا کر جلد ہی احمدی یو تھ اور فرسٹ نیشن کی یوتھ کے ساتھ اکٹھے پروگرامز کریں گے۔احمدی نوجوانوں جیسا نظم و ضبط میں نے کسی قوم میں نہیں دیکھا اور جس