خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 375
خطبات مسرور جلد 16 375 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 پھر محمد مبو ہو عزیز (Mbohou Azize) صاحب کیمرون سے ہیں۔کہتے ہیں میں گزشتہ سال بھی جلسہ میں شامل ہو ا تھا۔اس دفعہ پہلے کی نسبت ہر ڈیپارٹمنٹ میں ترقی ہوئی ہے۔ٹرانسپورٹ اور رہائش کے انتظام بہت اچھے تھے۔کھانے کے انتظامات سے بہت حیرت ہوتی ہے۔اتنے بڑے مجمع کو دو گھنٹے میں کھانا کھلا کر فارغ کر دیا جاتا ہے۔کوئی لڑائی اور شور شرابہ نہیں ہوتا۔ہر ایک بر وقت جلسہ گاہ میں جاتا ہے اور پر وگرام سنتا ہے۔یہ خاص چیز ہے جو دنیاوی پروگراموں میں نظر نہیں آتی۔خدام جتنے جذبہ پیار اور محبت سے کام کر رہے ہوتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔جس جماعت کے پاس ایسے فدائی ہوں وہ ہمیشہ ترقی کرتی ہے۔کہتے ہیں خاکسار پیشہ کے اعتبار سے جر نلسٹ ہے۔ایم ٹی اے کے سٹاف سے میٹنگ ہوئی اور وہاں بھی ہمیں بڑا مزہ آیا۔ہماری ضرورت کی ہر چیز موجود تھی جو چیزیں دنیا کے پرائیویٹ اور گورنمنٹ کے اداروں میں بھی میسر نہیں ہو تیں۔جماعت کا پیغام غیروں تک کیسے پہنچ رہا ہے اس کا اندازہ مجھے غیر از جماعت مہمانوں کے تاثرات سے ہوا۔ہر کسی نے جماعت کے پیار و محبت کی تعلیم کی تعریف کی۔پھر کہتے ہیں خلیفہ وقت نے عورتوں میں جو تقریر کی تھی وہ ہماری نئی نسل کی تربیت کے لئے بہت اہم ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال کیا ہونا چاہئے؟ یہ سب باتیں اس وقت کی اہم ضرورت ہیں۔اگر ہم نے اپنے بچوں کو اس ماحول سے نہ بچایا تو وہ انسانیت اور اسلام سے بہت دور چلے جائیں گے۔ہمیں اس تعلیم کو اپنانا ہو گا۔پھر کہتے ہیں فحشاء کی جو تفسیر آخری تقریر میں کی وہ بہت اثر رکھنے والی تھی۔اس کے معنی سن کر ایسا لگا کہ ہم سب ان برائیوں میں مبتلا ہیں۔اور کئی لوگ ہیں جو نیک کہلاتے ہیں لیکن ان کے اعمال نیک نہیں ہوتے۔اگر ہم خلیفہ وقت کی اس تفسیر کو سمجھیں اور اس پر عمل بھی کریں تو ہم اپنی نئی نسل کو پاک صاف معاشرہ دے سکتے ہیں۔لفظ فحشاء کی اس تفسیر نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔یہ ایسا بہترین نکتہ ہے جس کو میں اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھوں گا۔کہتے ہیں میں نے مختلف نمائشیں بھی دیکھیں۔جماعت کی تاریخ کا پتہ چلا۔جو قومیں اپنی تاریخ کو نہیں بھولتیں وہ ہمیشہ ترقی کرتی ہیں۔ریویو آف ریلیجنز ایک صدی کے عرصہ سے پیغام پہنچارہا ہے جو جماعت احمدیہ نے شروع کیا۔کہتے ہیں میں خود باقاعدگی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتا ہوں اور بہت معیاری آرٹیکل ہوتے ہیں اور اسی طرح ہیومینٹی فرسٹ کی خدمات بھی بڑی بے مثال ہیں۔آئس لینڈ کے وفد میں شامل ایک مہمان خاتون ایمیلیتا اور ڈو نیز (Emelita Ordonez) صاحبہ ہیں کہ جلسہ میں شامل ہونے سے میرے علم میں بہت اضافہ ہوا اور میں جماعت احمدیہ کو بہتر رنگ میں سمجھنے لگی ہوں۔دنیا بھر کے لوگوں سے ملنا اور ان سے گفتگو کرنا بہت دلچسپ تھا۔مجھے ہر طرف امن محبت اور بھائی چارہ محسوس ہوا۔جلسہ کی تقریریں ایمان افروز تھیں اور exhibitions دیکھ کر بہت لطف محسوس ہوا گو کہ نمائش میں شہداء کی تصویریں دیکھ کر دکھ بھی محسوس ہوا کیونکہ یہ ظلم محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے کیا گیا ہے اور کیا جاتا ہے۔تیسرے روز بیعت کی تقریب نے دل پر ایک غیر معمولی اثر چھوڑا تھا اور بہت ساری چیزوں کا اور تاثرات کا الفاظ میں بیان کرنا محال ہے۔میسیڈونیا سے ایک صحافی ٹونی اجٹو سکی (Toni Ajtovski) صاحب بھی تھے۔کہتے ہیں کہ جلسہ پر جس کہتی