خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 374
خطبات مسرور جلد 16 374 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔اسلام کے متعلق بہت ساری غلط فہمیاں دور ہوئیں۔حقیقی اسلامی تعلیمات سے آگاہی ہوئی۔میر ادل خوشی سے لبریز ہے کہ جلسہ کے جملہ شرکاء نے میرے ساتھ انتہائی محبت اور احترام کا سلوک کیا۔بحیثیت عورت کسی لمحہ بھی میں نے محسوس نہیں کیا کہ اپنے گھر سے دور ہوں اور اکیلی ہوں۔بلکہ اس کے بر عکس اس جگہ میں نے اپنے آپ کو محفوظ اور دوسروں کی نظر میں قابل احترام محسوس کیا۔باہمی اخوت اور محبت کا عملی نمونہ دیکھا۔دنیا کے مختلف ممالک کے افراد سے مل کر ایسا محسوس ہوا کہ سب ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اور ہمدرد ہیں۔اگر چہ مختلف زبانیں بولتے تھے مگر ان کے عملی نمونے نے یہ زبانوں کے اختلافات کو بھلا دیا۔کہتی ہیں میں اس پر امن اسلامی معاشرے سے بے حد متاثر ہوں اور میر ایقین ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد حقیقتاً امن و سلامتی کا عملی رنگ میں قیام کر رہے ہیں۔وہاں سے ایک ٹی وی چینل کے فوٹو گرافر آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں ناقابل فراموش تجربہ ہے۔کار کن سے لے کر افسر تک سب نے نیک جذبات کا اور محبت اور پیار کا سلوک کیا۔جلسہ کے انتظامات اور تقاریر نے میرے ذہن کو جلا بخشی۔عملی طور پر آپ لوگوں نے مجھے بتایا کہ حقیقی مسلمان کون ہو تا ہے۔وہ کہتے ہیں 2015ء میں جماعت سے تعارف ہوا تھا لیکن یہاں آکر مجھے محسوس ہوا کہ اپنے گھر میں رہ رہا ہوں۔بحیثیت انسان ہر ایک کا فرض ہے کہ دوسرے سے عزت واحترام سے پیش آئے اور ضرور تمند کی مدد کرے۔کہتے ہیں کہ اس جلسہ سے مجھے یہ سبق ملا کہ ہم سب مل کر باہمی تعاون اور محبت و اخوت سے کام کریں تو عظیم الشان کام کر سکتے ہیں۔میکسیکو سے ایک نو مبایعہ الزبتھ پریرا (Elizabeth Parera) صاحبہ کہتی ہیں کہ مجھے احمدی ہوئے صرف ایک سال ہوا ہے اور میں اسلام کے بارے میں سیکھ رہی ہوں۔یہ ایک ایسا مذ ہب ہے جو ہمارے ملک میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور اس کی وجہ میڈیا ہے لیکن میں جانتی ہوں کہ اسلام امن کا مذہب ہے مگر میرے گھر والے مجھے یہاں آنے سے روک رہے تھے اور مجھے ڈرا رہے تھے مگر یہاں پہنچنے کے بعد میں نے اس کے بر عکس پایا۔کہتی ہیں ائیر پورٹ سے ہمیں ریسیو کرنے سے لے کر جلسہ سالانہ کے تینوں دن تک جو رضا کاروں کا جذبہ اور سلوک میں نے دیکھا ہے اس سے میں بہت متاثر ہوئی ہوں۔اب میرے دل میں جماعت کے بھائی چارے اور فیملی کے نظام کے بارے میں کوئی شک نہیں رہا۔کہتی ہیں جو تصورات میں اپنے دل میں لے کر جارہی ہوں ان کو میں میکسیکو واپس جا کر استعمال کروں گی اور لوگوں تک جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچاؤں گی۔پھر میکسیکو کی ہی ایک نو مبایعہ لاؤرا بریتوسو بیر انس(Laura Brito Soberanis) صاحبہ ہیں۔کہتی ہیں کہ رضا کار کبھی کبھار میری بات نہیں سمجھ پاتے تھے لیکن مجھے یہاں آکر علم ہوا کہ زبان کا فرق احمدیوں کے مابین تعلقات میں روک نہیں بن سکتا۔خدا تعالیٰ کے پیار نے ہمیں ایک بنا دیا ہے۔میں ایسے محسوس کر رہی ہوں جیسے اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوں اور خلیفہ وقت کے خطابات سن کر میں نے اپنا جائزہ لیا کہ مجھ میں کون سی کمزوریاں ہیں اور اب مجھے یقین ہے کہ میں صحیح جگہ پر ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے ہدایت کا راستہ دکھایا ہے۔میری دلی خواہش ہے کہ جس طرح میرا ایمان پختہ ہو گیا ہے میرے گھر والے بھی اسلام کو جانیں اور ان کا ایمان بھی پکا ہو۔