خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 372
خطبات مسرور جلد 16 372 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ہم بھی سجدے میں گر گئے اور ہمیں لگا کہ واقعی ہمارے گناہ دھل رہے ہیں۔پھر انڈونیشیا کے ایک سکالر پروفیسر محمد صاحب ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کا انعقاد ایک بہت بڑا حیران کن پروگرام ہے۔اس جلسہ میں مختلف ممالک سے لوگ آئے ہوئے تھے اور ایسے لگ رہا تھا کہ گویا تمام دنیا کو اکٹھے کر کے اُمت واحدہ بنا دیا گیا ہے۔جس طرح یہاں رضا کار خدمت کر رہے تھے کسی اور تنظیم میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔یہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ جماعت احمدیہ ہر میدان میں خدمت کرنے والی جماعت ہے۔جلسہ کے دوران ہر قسم کے آدمی سے ملاقات ہوئی اور ان میں سے بعض بڑی بڑی شخصیات بھی تھیں۔ہر طرف اسلامی اخوت کا نظارہ نمایاں تھا اور ہر جانب امن و امان کا پیغام تھا۔کہتے ہیں جہاں تک مہمان نوازی کا تعلق ہے تو اس کا بیان ناممکن ہے۔کارکنان مہمانوں کی بڑی عزت کرتے ہیں۔بہت بشاشت سے پیش آتے ہیں۔ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ ہم اپنے گھر میں ہی رہ رہے ہیں۔اور جلسہ سالانہ کی تقاریر جو تھیں ہر ایک کو بآسانی سمجھ آرہی تھیں۔کہتے ہیں میری تجویز ہے کہ اس قسم کے عظیم الشان جلسہ کا انعقاد انڈونیشیا میں ہو جس میں خلیفہ وقت حاضر ہو یہ ہمارے لئے بڑی فخر کی بات ہو۔اگر کرنا چاہیں تو اپنے ملک کے لوگوں کو قائل کریں وہاں تو احمدیت کی دشمنی میں بڑھتے جارہے ہیں۔پھر انڈو نیشیا کی ایک مہمان خاتون ہیں جو کہ مسلمان عورتوں کی ایک تنظیم کی رہنما ہیں۔کہتی ہیں کہ میں جماعت احمدیہ کی کئی کتابیں پڑھ چکی ہوں اور جماعت کا کافی علم ہے لیکن جب جلسہ سالانہ میں شامل ہوئی اور خلیفہ وقت کے خطابات اپنے کانوں سے سنے تو بہت متاثر ہوئی۔واقعی جماعت احمدیہ کے لوگ عالم با عمل ہیں۔جس طرح لوگ غور اور توجہ کے ساتھ خلیفہ وقت کے ارشادات سنتے ہیں یہ سارا منظر دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی سچے مسلمان ہیں جو نماز کے پابند ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد بھی بڑے اچھے طریق سے ادا کر رہے ہیں۔ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ہر بات کرنے سے پہلے السلام علیکم کہتے ہیں۔ہر پروگرام میں نظم و ضبط اور اطاعت کے ساتھ پیروی کرتے ہیں۔ہر ایک رضا کار اپنی اپنی ذمہ داریوں کو تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کے تحت ادا کر رہا ہے۔یہ سارا نظارہ دیکھ کر میں بہت متاثر ہوئی۔اور کہتی ہیں کہ یہ سب کچھ امام الزمان اور خلافت کی برکات کا نتیجہ لگتا ہے۔یہ احمدی نہیں ہیں۔انڈونیشیا سے ہی ایک غیر احمدی سکالر تھے جو وہاں ایکیونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے ہیڈ بھی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے پہلی مرتبہ ایسی مجلس دیکھی ہے جس میں ہر لحاظ سے اور ہر پہلو سے روحانی امور کو مد نظر رکھا جارہا ہے۔کہتے ہیں میں اس جلسہ کو ایک سنہری جلسہ خیال کرتا ہوں کیونکہ اس میں ساری دنیا سے لوگ خلافت کے ارد گرد پروانوں کی طرح جمع ہوئے ہیں۔میں ایک انڈو نیشین کی حیثیت سے خلیفتہ المسیح کی کوششوں کو سراہتا ہوں جنہوں نے تمام دنیا کے لوگوں کو ایک جگہ میں اکٹھا کر کے بھائی چارے کا منظر پیش کیا ہے۔اصل میں تو خلافت اس کام کو آگے بڑھا رہی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس کے لئے بھیجے