خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 371 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 371

خطبات مسرور جلد 16 371 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 خاندانوں کو جوڑنے اور مشینی دنیا سے باہر نکلنا واقعی اس وقت دنیا کی ضرورت ہے۔کہتی ہیں کہ آجکل مذہب سے دوری کارجحان ہے لیکن ہم یہ سوچ رہے تھے کہ وہ کون سی طاقت ہے جو جماعت احمدیہ کے افراد میں دینی خدمت کا جذبہ اور جوش قائم رکھے ہوئے ہے۔یہ سوال ہمارے ذہنوں میں گردش کر رہا تھا۔لیکن جلسہ کے پہلے دن ہی دعا میں شامل ہو کر اور امام جماعت احمدیہ کی نصائح سن کر یقین ہو گیا کہ دعا ہی وہ طاقت ہے جو جماعت احمد یہ اور دنیا بھر کے درمیان امتیاز پیدا کر رہی ہے۔جلسہ میں ہمیں بار بار دعا کرنے کا موقع ملا۔دعا کے بعد ہم نے دیکھا کہ ہمارے دل بھی ہلکے ہوئے ہیں اور ہماری روح کو ایک تازگی ملی ہے۔پھر کہتی ہیں کہ جلسہ کے دوران موسم گرم رہا لیکن ہم نے نہیں دیکھا کہ موسمی شدت کی وجہ سے لوگ اکتاہٹ کا شکار ہوئے ہوں۔کارکنان کے چہروں پر مسکراہٹ قائم رہی۔کھانے کے دوران نظم و ضبط مثالی تھا۔جب مجھے پتہ چلا کہ پانی پلانے والے بچوں سے لے کر واش رومز کی صفائی کرنے والے رضا کاروں تک اکثر اپنی دلی خوشی سے یہ خدمات بجالا رہے ہیں تو میں انہیں رشک سے دیکھتی اور دعا کرتی کہ خدا ان سب سے راضی ہو جائے جو لوگوں کی تسکین کے لئے اپنا آرام قربان کر رہے ہیں۔گوادے لوپ کے ایک نو مبائع پیٹرس میاکو (Patrice Mayeko) صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اس طرح کا پروگرام نہیں دیکھا۔جلسہ کے پروگراموں کا بر وقت شروع ہو جانا میرے لئے بہت متاثر کن تھا۔تقاریر کے مختلف موضوعات وقت کی ضرورت کے مطابق تھے اور خاص طور پر میرے لئے بہت مفید تھے۔جلسہ کا تمام انتظام ایک چلتی ہوئی مشین کی طرح تھا جس کا ہر پرزہ اپنی جگہ پر تھا اور سب کارکنان مل کر اس مشین کو بہترین طریقے سے چلا رہے تھے۔ہر کارکن اپنے کام سے واقف اور ماہر نظر آتا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ جلسہ میں منعقد کی جانے والی تمام نمائشیں بہت فائدہ مند تھیں۔خاص طور پر آرکائیو اور مخزن تصاویر اور ریویو آف ریلیجنز نے مجھے بہت متاثر کیا۔یہ نمائشیں مجھے بہت پسند آئیں اور انہوں نے میرے احمدیت کی تاریخ کے بارے میں علم میں بہت اضافہ کیا۔اس جلسہ میں شامل ہو کے میں اور بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے ایسی بابرکت جماعت کے ساتھ منسلک ہونے کی توفیق دی۔ایک کمی کی طرف بھی انہوں نے اشارہ کیا ہے۔کہتے ہیں کہ اس بابرکت جلسہ سالانہ کی تمام خوبیوں سے قطع نظر میری ادنی سی سمجھ کے مطابق انگلش کے بالمقابل میں نے فرنچ زبان میں پروگراموں کی بہت کمی محسوس کی ہے۔فریچ پروگرام بنانے والے اس بات کو نوٹ کر لیں کہ یا تو فریج پروگرام ہوں یا پھر جو پروگرام ہور ہے ہوتے ہیں ان کا ترجمہ بھی کسی طریقے سے ہو۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کمزوریوں کی نشاندہی بھی ہمیں ساتھ ساتھ ہو جاتی ہے۔جاپان سے آئے ہوئے ایک مہمان یوشیدا (Yoshida) صاحب جو کہ بدھ مت کے چیف پر یسٹ ہیں انہوں نے عالمی بیعت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کہتے ہیں بیعت کی تقریب دیکھ کر احساس ہوا کہ ہمارا ایک خدا ہے اس کے آگے جھکا جائے تو دلوں کو اطمینان ملتا ہے اور گناہ ڈھل جاتے ہیں۔نیز اگر سب انسان اختلافات ختم کر کے ایک ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں۔پھر کہتے ہیں بیعت کی تقریب میں شامل ہو کر بے اختیار ہماری