خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 29
29 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 خطبات مسرور جلد 16 بیماروں کو پوچھنے کے لئے جایا کرتے تھے۔اور باوجود بیماری کے وقت پر دفتر آنا اور پورا وقت رہنا، کام کرنا ان کا خاص شیوہ تھا۔آخری بیماری کے دنوں میں بھی دفتر آئے تو بہت سارے لوگوں کو غیر حاضر پایا تو انہوں نے ایک سر کلر کیا کہ اگر خاکسار وقت پر دفتر آسکتا ہے تو باقی کیوں نہیں آسکتے۔تنظیمی لحاظ سے، انتظامی لحاظ سے بھی جہاں پکڑنا ہو تا تھا سختی کی لیکن پیار سے سمجھانا۔ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات پر جو اسلام آباد پاکستان میں ہوئی تھی اور وہاں جنازہ پڑھایا گیا تو انہوں نے جنازہ پڑھایا کیونکہ انجمن کے یہ نمائندہ تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے بھی ان کو یہی کہا کہ آپ پڑھائیں۔آپ بڑے بھی ہیں لیکن خلیفہ رائع نے کہا نہیں۔اور ان کو ہی کہا کہ کیونکہ آپ انجمن کے نمائندے ہیں اس لئے جنازہ آپ پڑھائیں۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح الثالث کو غسل دینے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔مکرم مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ 74ء کے جو حالات تھے ان میں یہ دو تین مہینے وہاں رہے۔اس کے بعد جب حالات بہتر ہوئے تو پھر حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ان کو کہہ دیا کہ جاؤ گھر چلے جاؤ لیکن بعض کام جو دیا کرتے تھے ان کی روزانہ صبح ناشتے پر آکر رپورٹ دینی ہے اور یہ روزانہ بلا ناغہ احکامات لے کر جاتے تھے اور اگلے دن آئے پھر اس کی تعمیل کی رپورٹ دیا کرتے تھے۔اسی طرح مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی وفات کے بعد خلافت رابعہ کے انتخاب کے دوسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو آلیس الله کی انگوٹھی تھی وہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع سے کہیں misplace ہو گئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو بڑی فکر تھی۔انہوں نے مکرم مرزا خورشید احمد صاحب کو بلایا اور فرمایا کہ یہ میرے وفادار ہیں اور ہر خلافت کے وفادار ہیں۔اس لئے ان کو فرمایا کہ اس طرح یہ گم گئی ہے۔تلاش کرو۔اللہ کے فضل سے پھر وہ مل بھی گئی تھی۔گذشتہ سال ان کی اہلیہ بھی فوت ہوئیں۔اس کے بعد یہ کافی بیمار بھی ہو گئے۔دل کی تکلیف پہلے بھی چل رہی تھی تو میں نے کہا یہاں جلسے پر آجائیں۔پہلے تو بڑا تھا کہ شاید میں سفر نہ کر سکوں لیکن بہر حال پھر آگئے اور یہاں آکے ان کی طبیعت بڑی اچھی ہو گئی۔بڑے ہشاش بشاش رہے اور پھر موسم جیسا بھی ہور روزانہ مجھے رات کو ملنے بھی آیا کرتے تھے اور کبھی انہوں نے موسم کی پرواہ نہیں کی۔جتنا عرصہ یہاں رہے ہیں مجھے روزانہ باقاعدگی سے رات کو آکر ملتے تھے۔مکرمه فوزیہ شمیم صاحبہ صدر لجنہ لاہور حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی بیٹی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔یہ کہتی ہیں کہ ناظر اعلیٰ بننے کے بعد ان کی خوبیاں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔نہایت عاجز خادم دین تھے۔میں نے بار ہا آپ کو کام سے فون کئے۔اگر میٹنگ میں ہوتے تو پھر دوبارہ فون کر لیتے۔کئی بار ایسا ہوا کہ میرے پاس اچانک مریم شادی فنڈ کی درخواست آئی اور فوری مطالبہ ہوا۔میں فون کرتی اور معذرت کرتی اور مجبوری بتاتی اور اس وقت انتہائی تحمل سے کہتے کہ امیر صاحب سے پیسے لے لو یا خود انتظام کر لو ر قم بھجوا دوں گا۔بڑے ہمدرد تھے۔کہتی ہیں کہ میں نے آپ جیسا ہمدرد کوئی نہیں دیکھا۔ایک دفعہ ہمارے ایک گاؤں کی جو ان بچی کو ابتلا آ گیا۔بچی ہاتھوں سے نکل رہی تھی۔کسی طرح سے مان نہیں رہی تھی۔میں نے آپ کو یہ کیس بھیجا۔آپ نے انتہائی ہمدردی اور پیار سے اس کو ہینڈل(Handle) کیا اور ان عام دنوں میں یہ