خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 370

خطبات مسرور جلد 16 370 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اگست 8 2018- تجربہ نہایت خوش کن اور دلنشین تھا۔میں تینوں دن احمدیوں کے بھائی چارے باہمی محبت اور انسانیت کی خدمت سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں۔میں ایک ایسے ملک سے آیا ہوں جہاں پر ہمیں بہت سارے معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔میں بیلیز سٹی کے میئر کے طور پر سمجھتا ہوں کہ ان تمام معاشرتی مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے شاید ہمیں اپنی لوکل جماعت احمد یہ بیلیز سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔کہتے ہیں کہ میں یہاں سے بہت اچھی یادیں ساتھ لے کر جارہا ہوں اور ان تعلقات کو بھی جو ان تین دنوں کے دوران بنے ہیں۔رہائش کھانے اور سفر وغیرہ کے تمام انتظامات نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے۔کاروں کے ڈرائیورز، ائیر پورٹ پر کھڑے خوش آمدید کرنے والے کارکن، اسی طرح جلسہ سالانہ کے دوران آب رسانی کی ڈیوٹی دینے والے بچے ، پارکنگ والے کارکن، کھانا پکانے والے اور تمام ایسی انتظامیہ جو پس پردہ خدمت کی توفیق پارہی تھی ان سب نے اس جلسہ کو نہایت ہی یاد گار بنایا ہے۔پھر اٹلی سے ایک پروفیسر یوستولا نسا بالده (Justo Lacunza Balda)۔یہ کیتھولک مشنری پادری ہیں اور سابقہ پوپ کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے اس جلسہ میں تین باتیں خاص طور پر نوٹ کی ہیں۔ایک تو مختلف اقوام کا آپس میں اس طرح پیار سے ملنا اور کسی قسم کا حجاب نہ ہونا ایک حیران کن بات ہے اور دنیا میں کہیں اس طرح کا نظارہ نہیں ملتا۔دوسرا اس جلسہ میں مجھے بہت سکون نظر آیا ہے۔کسی قسم کی بے چینی نہیں تھی۔اور تیسری بات یہ ہے کہ خلیفہ وقت کے خطابات اپنے اندر بڑا واضح پیغام رکھتے ہیں اور ان میں ہمارے لئے بہت پریکٹیکل نصائح ہیں۔پھر فلپائن کی ایک مہمان ایلینا لو بس صاحبہ۔اس وقت عرب نیوز کے لئے کام کرتی ہیں اور گزشتہ سال منیلا بلیٹن کی صحافی کے طور پر جلسہ میں شامل ہوئی تھیں۔اس سال پھر دوبارہ اپنے ذاتی خرچ پر شامل ہوئی ہیں۔کہتی ہیں کہ میرا جلسہ سالانہ میں شمولیت کا دوسرا تجربہ ہے۔مجھے کہنا پڑے گا کہ ہر بار جلسہ سالانہ کے انتظامات اور دیگر امور نے مجھے بے حد مرعوب کیا ہے۔اسی طرح لوگوں کی ایمانی کیفیت بھی دیکھ کر اور خاص طور پر اس امر نے کہ کس طرح مختلف رنگ و نسل کے لوگ جلسہ سالانہ کے ماحول میں آکر باہم گھل مل جاتے ہیں اور کسی بھی قومیت یا رنگ و نسل کے شخص میں ہر گز کوئی فرق نہیں رہتا۔یہی باہمی محبت اور بھائی چارہ ہے جو آپ کے پیغام کو ایک عملی رنگ دیتا ہے جو کسی بھی تقریر سے زیادہ موثر اور دیر پا اثر چھوڑنے والا ہے۔مجھے یقین ہے کہ شاملین جلسہ اسی محبت اور برابری کی فضا کو اپنے اپنے ملکوں میں واپس لے کر جاتے ہوں اور اس طرح جلسہ میں شامل تمام ممالک اس ماحول سے مستفیض ہوتے ہوں گے۔کہتی ہیں کہ میر اخیال ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو احمد یہ جماعت کے ساتھ جلسہ کے ماحول میں کچھ دن گزارنے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ محبت اور برادری کسے کہتے ہیں اور اسلام کا حقیقی چہرہ کس قدر خوبصورت ہے۔جاپان سے آنے والے وفد میں شامل ایک خاتون یو کیکو کونڈو (Yukiko Kondo) صاحبہ میری جو عورتوں کی تقریر تھی اس کے بارے میں کہتی ہیں کہ خواتین کے خطاب سے پتہ چلتا ہے کہ خلیفہ وقت کی نصائح، امام جماعت احمدیہ کی نصائح وہ پروٹیکشن (Protection) ہیں کہ جن کے سائے تلے احمدیت ترقی کر رہی ہے۔