خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 369

خطبات مسرور جلد 16 369 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 کہہ سکتا ہوں کہ دنیا سے جنگ و جدل ختم ہو جائے اور بنی نوع انسان کے مسائل ختم ہو جائیں۔میں جماعت احمدیہ کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس کا بچہ ، بڑا، نوجوان، بوڑھا اور مستورات سب ہی منظم اور مہذب لوگ ہیں۔بیٹی (Haiti) کے صدر مملکت کے نمائندے جوزف پیرے (Joseph Pierre) صاحب آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں یہ جلسہ میری زندگی کا بہت ہی اچھا تجربہ تھا جو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔کارکنان کے بے مثال طرز عمل نے میری آنکھیں کھول دی ہیں بلکہ اسلام کے بارے میں میرے خیالات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔پھر آئیوری کوسٹ سے سپریم کورٹ کے ایک حج طورے علی صاحب آئے تھے جو آئیوری کوسٹ کی نیشنل کانسٹی ٹیوشنل کونسل کے ایڈوائزر بھی ہیں۔کہتے ہیں میں خود بھی مسلمان ہوں اور گزشتہ میں سالوں سے مختلف اسلامی فرقوں کے مذہبی پروگراموں میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے لیکن مجھے ان میں سالوں میں اسلام کا وہ علم حاصل نہیں ہوا جو جلسہ کے ان تین دنوں میں ہوا ہے۔ان تین دنوں میں روحانی طور پر مجھے جو ترقی ملی ہے وہ گزشتہ میں سالوں میں نہیں ملی۔کہتے ہیں کہ غیر احمدی علماء کے پاس کچھ نہیں ہے۔اسلام کے بارے میں اگر کسی نے حقیقی تعلیم حاصل کرنی ہے تو وہ جماعت احمدیہ کے پاس آئے۔پھر کہتے ہیں کہ جلسے پر جس طرح رضا کار ڈیوٹیاں دیتے ہیں اسی سے پتہ چل جاتا ہے کہ احمدیوں کو خلافت سے بہت محبت ہے اور اسی محبت کی وجہ سے وہ اپنے خلیفہ کی کامل اطاعت کرتے ہیں اور آپس میں بہت محبت سے رہتے ہیں۔اس محبت میں یکجائی اور اتحاد ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کی صحیح رنگ میں خدمت کر رہے ہیں۔کسی دوسرے مسلمان فرقے کے پاس ایسار ہنما اور ایسا اتحاد نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ میں آئندہ بھی روحانی جلسہ میں شامل ہوں گا بلکہ اپنی اہلیہ کو بھی لے کر آؤں گا۔پھر بیلیز (Belize) سے ایک صحافی خاتون سحر و اسکیز (Sahar Vasquez) صاحبہ ہیں۔کہتی ہیں جب میں میامی سے لندن والی فلائٹ پر بیٹھی تھی تو میرے ذہن میں خوف اور ڈر اور دہشت کے بہت سے خیالات آنے لگے۔یہ خیالات اس وجہ سے نہیں تھے کہ میں سات گھنٹے لمبی فلائٹ میں بیٹھی تھی۔بلکہ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں نے اپنے اگلے تین دن مسلمانوں کے درمیان گزارنے ہیں۔دنیا بھر میں ہونے والے شدید ترین دہشت گردی کے واقعات کے لئے بعض مسلمان ہی ذمہ دار ہیں۔مجھے احساس ہوا کہ اب میں واپس نہیں جا سکتی۔جہاز تو اڑ گیا۔پس مجھے اس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا۔چنانچہ میں نے دعا کی کہ میں خود کسی دہشت گرد حملہ کی شکار نہ بن جاؤں۔ظاہر ہے کہ میں کسی حملہ کی شکار تو نہیں بنی بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔مجھے تو یہاں شہزادیوں کی طرح رکھا گیا تھا۔جلسہ سالانہ کے تاثرات میری زندگی میں سب سے بہترین تاثرات میں سے ہیں۔میں بہت سارے لوگوں سے ملی ہوں لیکن مجھے احمدیوں جیسے ہمدرد لوگ کبھی نہیں ملے۔میں نے ایک اعلیٰ اور عمدہ جماعت کو پایا۔مجھے عاجزی اور محبت کے اعلیٰ معیاروں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ہر دن نہایت سحر انگیز تھا۔مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں یہاں سے بہت سارے دوست اور یادیں ساتھ لے کر جارہی ہوں۔یہ حقیقت میں ایک ایسا تجربہ تھا جو میں کبھی نہیں بھول پاؤں گی۔پھر بیلیز شہر کے میئر بر نرڈ جوزف (Bernard Joseph) صاحب کہتے ہیں کہ میر اجلسہ سالانہ کا یہ پہلا