خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 368

خطبات مسرور جلد 16 368 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس شکر گزاری پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش مزید شکر گزاری کے لئے جلسہ کے دنوں میں ہی شروع ہو جاتی ہے۔اس کا ایک اظہار غیر مہمانوں کے جلسہ کے بارے میں تاثرات بھی ہے۔اس وقت میں خلاصہ بعض تاثرات آپ کے سامنے رکھوں گا جس سے ظاہر ہو تا ہے کہ جلسہ کی برکات کا دوسروں پر بھی کتنا اثر ہو تا ہے۔بین کے ایک مہمان و مینٹین ہو دے (Valentine Houde) صاحب جو کہ آٹھ سال وزیر رہ چکے ہیں اور اس وقت ممبر آف پارلیمنٹ ہیں جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ میں نے جلسہ سالانہ سے وہ کچھ حاصل کیا ہے جو میں کثیر رقم خرچ کر کے بھی حاصل نہ کر سکتا تھا۔ایک پر سکون اور روحانی ماحول تھا جس میں مجھے رہنے کا موقع ملا۔میں نے آج تک اتنا منظم اجتماع نہیں دیکھا جس میں چالیس ہزار کے قریب لوگ شامل تھے۔مختلف قوموں اور رنگوں اور نسلوں کے لوگ ہیں لیکن پھر بھی اتنا پر سکون ماحول ہے۔اور نہ کوئی لڑائی نہ جھگڑا۔ہر ایک دوسرے کی خدمت میں مصروف ہے۔چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان، مستورات بچیاں سب اعلیٰ اخلاق کے ساتھ دوسرے کے آرام کے لئے کام کر رہے ہیں۔میرے لئے یہ بہت بڑی بات ہے اور حیرانگی کی بات ہے کہ اتنے بڑے مجمع میں نہ کوئی پولیس نہ کوئی فوج نظر آئی۔ہر طرف جماعت احمدیہ کے رضا کار ہی کام کرتے نظر آرہے تھے۔میں سوچ رہا تھا کہ آج کے دور میں بے لوث اور بے غرض ہو کر کام کرنا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔پھر میں اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سب کچھ جماعت احمدیہ میں خلافت کی قیادت کی بدولت ہی ممکن ہے جس نے جماعت کے بچوں بوڑھوں نوجوانوں اور عورتوں سب کی اس رنگ میں تربیت کی ہے اور بچپن میں ہی ان کو جلسہ کے انتظامات سکھانا شروع کر دیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ جماعت احمد یہ جو اسلام دنیا کو پیش کرتی ہے اور جس رنگ میں اپنے ممبران کی تربیت کر رہی ہے اس سے بہت جلد دنیا اسلام احمدیت میں داخل ہو جائے گی اور احمدیت ہی دنیا میں سب سے بڑا مذ ہب ہو گی۔(احمدیت تو مذ ہب نہیں اسلام ہی دنیا میں سب سے بڑا مذ ہب ہو گا جو احمدیت کے ذریعہ سے، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے دوبارہ نئے سرے سے قائم ہو گا۔) کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ جو تعلیم پیش کرتی ہے دنیا کو اس کی حقیقی عملی تصویر یہاں جلسہ میں شامل ہو کر دیکھنے کو ملی۔میں اس جلسہ کی بہت حسین یادوں کو لے کر لندن سے واپس اپنے ملک لوٹ رہا ہوں۔میرے لئے یہ لمحات نا قابل بیان اور حسین یادیں ہیں۔پھر بین کے ہی ایک مہمان چنوانو پاسکل (Tchinwam Pascal) صاحب جو بین کی وزارت برائے planning and development میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے بہت کا نفر نسز دیکھی ہیں۔ان میں شمولیت کی ہے۔لیکن آپ کے جلسہ کی طرح منظم اور کامیاب جلسہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔اس جلسہ میں تمام کام کرنے والے کارکنان اپنی ذمہ داریوں کو بڑی اچھی طرح جانتے تھے اور ان فرائض کو بڑے احسن رنگ میں ادا کر رہے تھے۔چالیس ہزار کی تعداد کو کھاناکھلانا حیران کن تھا۔لیکن سب سے بڑی اور ناقابل یقین بات یہ ہے کہ تمام کھانا پکانے والے اور کھلانے والے سب رضا کار تھے۔اگر ساری دنیا میں اس جذبے کے تحت کام کیا جائے تو میں یقین سے