خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 367
خطبات مسرور جلد 16 367 32 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 10 اگست 2018ء بمطابق 10 ظهور 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الحمد للہ گزشتہ اتوار کو اپنی برکات بکھیرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار کرتے ہوئے جلسہ سالانہ یو کے اپنے اختتام کو پہنچا۔یہ تین دن بڑے بابرکت تھے۔جلسہ سالانہ کی تیاریاں تو تقریباً سارا سال ہی چلتی ہیں لیکن آخری تین چار مہینے تو خاص طور پر انتظامیہ اور بہت سے رضا کار جلسہ کی تیاری کے لئے مصروف ہو جاتے ہیں اور جلسہ سے پہلے کے دو ہفتے تو رضا کاروں کی تعداد میں بھی بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔خاص طور پر حدیقۃ المہدی میں تمام سہولتوں کو مہیا کرنے کے لئے کارکنان اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں جن میں نوجوان خدام کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔اس جگہ پر جو تقریباً جنگل ہے تمام تر سہولتوں کے ساتھ ایک عارضی شہر بنادینا کوئی معمولی کام نہیں ہے اور پھر یہ بھی کہ سو فیصد پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے یہ کام نہیں کر رہے ہوتے۔یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اور جو نتائج حاصل ہوتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کوششوں کو غیر معمولی طور پر کامیاب کرتا ہے اور جو مہمان آتے ہیں وہ بھی حیران ہو کر کارکنان کے جذبے کو دیکھ کر اس بات کا اظہار کرتے ہیں۔جلسہ سے پہلے جو کارکنان کام کر رہے ہوتے ہیں وہ جلسے کے دنوں میں اور بھی بڑھ جاتا ہے اور پھر اس میں نوجوان، بوڑھے، بچے، مرد، عورتیں سب شامل ہوتے ہیں اور غیر مہمانوں کے لئے یہ ایک غیر معمولی چیز ہے کہ کس طرح بچے اور بڑے سب اپنے کام میں انتہائی مصروف ہیں۔مہمان جن کو اس بات کا کبھی تجربہ نہیں ہوتا ان کے کام سے بڑے متاثر ہوتے ہیں۔جس طرح یہ لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ ایک غیر معمولی اظہار ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی کارکنان کی خدمت کو دیکھنے کے علاوہ اس بات کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ جلسہ نے ان پر ایک خاص اثر چھوڑا ہے، ان کی زندگیوں کو تبدیل کیا ہے۔باوجو د مسلمان نہ ہونے کے ان پر اسلام کی تعلیم کا ایک اثر قائم ہوا ہے۔اسلام اور جماعت کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔اور اسلام کے منفی اثر کے بجائے اس کی خوبصورتی کا ان کو علم ہوا ہے۔پس جلسہ جہاں اپنوں کے ایمان میں مضبوطی اور بھائی چارے کو بڑھانے کا ذریعہ بنتا ہے وہاں غیروں کو اسلام کی حقیقی تعلیم بتانے کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔جلسہ کے دوسرے دن کی تقریر میں دوران سال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی ہو اس کا خلاصۂ ذکر کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں پر شکر گزاری کا اظہار کیا جاتا