خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 362

خطبات مسرور جلد 16 362 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اگست 3 ت 2018 بھی دور کیا جاسکا تو اگلے سال کے لئے خیال رکھا جائے گا اور ہمارے جماعتی نظام کی یہی خوبی ہے اور ہونی چاہئے کہ جن جن کمزوریوں کی نشاندہی ہو انہیں دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا کوشش کی جائے۔مہمان نوازی کا ایک اہم شعبہ کھانا پکانے کا ہے۔جلسے کے دنوں میں لنگر کے مخصوص کھانے ہیں اور وہی پکائے جاتے ہیں فی الحال دنیا میں ہر جگہ جہاں بھی جلسے ہوتے ہیں یا کم از کم ان جگہوں پر جہاں پاکستانی اور ہندوستانی احباب کی اکثریت ہے۔سوائے کچھ کھانے ایسے ہیں جو غیر ملکیوں کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔غیر ملکی سے مراد میری غیر پاکستانی یا غیر ہندوستانی ہے۔اس میں اکثر شامل ہونے والے جیسا کہ میں نے کہا کہ پاکستانی یا ہندوستانی ریجن کے لوگ ہیں اس لئے یہ مخصوص کھانا آلو گوشت اور دال لنگر میں پکتا ہے اور روٹی۔لیکن پکانے والے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ٹھیک ہے کھانا تو ہم نے اپنی مرضی کا کھلانا ہے ان کو لیکن پکانے والے اس بات کا بہر حال خیال رکھیں کہ کھانا اچھی طرح پکا ہو۔خاص طور پر گوشت اچھی طرح پکا ہو۔مجھے پتہ چلا کہ کل گوشت اچھی طرح گلا نہیں ہوا تھا۔کل تھوڑے مہمان تھے اس لئے کوئی زیادہ شکایت نہیں آئی ہو گی۔لیکن اگر آج بھی وہی حال ہے تو پھر انتظامیہ کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔اگر گوشت کی کوالٹی اچھی نہیں تھی تو انتظامیہ کو فوری طور پر اس بات کی کارروائی کرنی چاہئے کہ اچھی کوالٹی کا گوشت ملے۔مجھے امید ہے کہ مہمان تو اس بات پر انشاء اللہ شکایت نہیں کریں گے لیکن اگر شکایت کریں تو پھر وہ ان کی جائز شکایت ہو گی۔لیکن شکایت غصہ سے بھر کر نہ کریں بلکہ پیار سے انتظامیہ کو توجہ دلا دیں کہ یہ کمی ہے اس کو پورا کریں۔اس طرح کھانا بھی ضائع ہو تا ہے اور رزق کی بھی ہمیں حفاظت کرنے کا حکم ہے۔پھر شاملین جلسہ کو اس بات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام کا ایک حسن خلق یہ بھی ہے کہ مومن بیکار اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔(سنن ابن ماجه كتاب الفتن باب كف اللسان في الفتنة حديث 3976) اور یہ جلسہ جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خالص للہی جلسہ قرار دیا ہے اس میں تو ہر قسم کی فضول باتوں اور وقت کے ضائع ہونے سے پر ہیز کرنا چاہئے یا وقت کے ضائع کرنے سے پر ہیز کرنا چاہئے اور جلسہ کے پروگراموں کو غور سے سنیں۔مقررین آپ کی پسند کے ہیں یا نہیں لیکن تقریروں کے عنوان بہر حال ایسے رکھے جاتے ہیں جو ہر ایک کے لئے فائدہ مند ہوں اور ہر تقریر میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو کسی نہ کسی کے دل پر اثر کرتی ہے۔اس لئے غور سے سنیں تو اثر بھی ہو گا۔سوائے اشد مجبوری کے جلسہ گاہ سے اٹھ کر نہ جائیں۔اور جس طرح اس وقت حاضری ہے جلسہ کے دوران بھی ہر پروگرام میں ایسی حاضری ہونی چاہئے تا کہ بچوں اور نوجوانوں کو بھی جلسہ کی اہمیت کا اندازہ ہو اور وہ بھی اپنے آپ کو دین کے ساتھ جوڑیں اور اس کے لئے کوشش کریں۔آجکل کے دنیا داری کے ماحول میں بچوں اور نوجوانوں کو دین کی اہمیت کا احساس دلانا اور اس کے ساتھ جوڑنا والدین کا بہت بڑا اور اہم کام ہے اس طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔ہر ماں اور ہر باپ کو اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔