خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 361

خطبات مسرور جلد 16 361 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اگست 3 ت 2018 نہیں۔اور پھر یہ بھی کہ اچھے اخلاق کا مالک نماز روزے کے پابند کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔(سنن ابو داؤد کتاب الادب باب فى حسن الخلق حدیث 4798-4799) یعنی نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔اور خاص طور پر جب اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر نیکیوں کی توفیق ملتی ہے تو پھر اس کی عبادت کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی توفیق ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر رہا ہوں اور یہی شکر گزاری عبادت کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔گویا ایک نیکی اعلیٰ معیار کی نیکیاں کرنے کی توفیق عطا کرتی چلی جاتی ہے۔ایک نیکی پھر کئی نیکیوں کے بچے دیتی چلی جاتی ہے۔پس کارکنان خاص طور پر اس بات کو لازمی بنائیں کہ جیسا بھی کسی دوسرے کا سلوک ہو ان کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہنی چاہئے۔اس ظاہری حالت کا اثر پھر دل پر بھی ہوتا ہے اور دل میں بھی کوئی سختی پیدا نہیں ہو گی اور جب دل میں بلاوجہ کی سختی پیدا نہیں ہو گی تو غلط فیصلے بھی نہیں ہوں گے جو بعض دفعہ جوش اور غصہ میں ہو جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خُلق کے اعلیٰ ترین معیار کو بیان کرتے ہوئے ایک صحابی بیان فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہنستا مسکراتا چہرہ کسی کا نہیں دیکھا۔(سنن الترمذی ابواب المناقب باب قول ابن جزء ما رأيت احدا اكثر تبسماً حديث 3641) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو یہ نصیحت بھی فرمائی کہ نرمی کرو کیونکہ جو نرمی سے محروم کیا گیا وہ خیر سے بھی محروم کیا گیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة باب فضل الرفق حديث 6598) اب اس بات کو اگر کارکنان اور شامل ہونے والے سب سمجھ لیں تو اس ماحول کی برکات کی وجہ سے خیر و برکت سے جھولیاں بھرنے والے بن جائیں گے۔کارکنان اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر مہمان کی دلی طور پر خدمت کرتے ہیں۔لیکن اگر پھر بھی کسی کے دل میں یہ خیال آجائے کہ فلاں شخص کو زیادہ پوچھا جا رہا ہے اور مجھے کم تو اس خیال کو بھی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یعنی اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے تو کارکنان اس خیال کو دور کریں۔لیکن ساتھ ہی میں شاملین جلسہ سے بھی کہوں گا کہ جلسہ کے اتنے وسیع انتظامات اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے کہا رضا کاروں کے ذریعہ سے ہو رہے ہیں۔یہ کوئی ہمارے ملازم نہیں ہیں۔بعض بہت اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے ایک جذبے سے سرشار ہو کر خدمت کر رہے ہیں۔اسی طرح نو جوان ہیں جو سیکنڈری سکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں۔لڑکیاں بھی ہیں، لڑکے بھی ہیں۔اسی طرح بچے بھی ہیں۔یہ سب ایک جذبے سے خدمت کرتے ہیں۔اس لئے اگر کہیں چھوٹی موٹی کمیاں اور کمزوریاں دیکھیں بھی تو صرفِ نظر کریں اور ایک مقصد سامنے رکھیں کہ محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی باتیں سننے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں اور جب یہ مقصد سامنے ہو گا تو کسی قسم کے شکوے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔جلسہ کے انتظامی کاموں کے کرنے کے لئے باقاعدہ ایک نظام ہے۔مختلف شعبہ جات ہیں جو اس کے کاموں میں سہولت پیدا کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔اگر کسی مہمان کو کسی ایک شعبہ میں کمی نظر آتی ہے یا جس طرح اس کا خیال ہے کہ اس کی مہمان نوازی ہونی چاہئے یا اس کا خیال ہے کہ اس کا حق ہے کہ اس کی مہمان نوازی اس طرح ہو اور وہ نہیں ہو رہی تو بجائے کارکنوں سے الجھنے کے صرف شعبہ کے انچارج کو لکھ دیں۔اس سال اگر کمی کو نہ