خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 363
خطبات مسرور جلد 16 363 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 03 اگست 2018 تربیت کے لحاظ سے اور دین سے جوڑنے کے تعلق میں سب سے اہم بات عبادت ہے اور اس کے لئے ہم پر پنجوقتہ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔جلسہ کے پروگراموں اور مسافروں کی وجہ سے جو بہت سارے لوگ باہر سے آئے ہوئے ہیں، ہم نمازیں آجکل جمع کر رہے ہیں۔تو ان کی بھی پابندی کرنی ضروری ہے۔خود بھی پابندی کریں اور بچوں کو بھی نمازوں کے اوقات میں اگر یہاں حدیقۃ المہدی میں ہیں تو ضرور لائیں اور فجر کی نماز اور مغرب اور عشاء کی نماز کے وقت اگر یہاں نہیں ہیں اور اپنے گھروں میں چلے گئے ہیں تو وہاں پھر قریب ترین سینٹر یا مسجد میں نماز۔پڑھنے کے لئے جائیں اور گھر دُور ہیں مسجد سے یا سینٹر سے تو گھروں میں بھی باجماعت نمازوں کا انتظام اور اہتمام ہونا چاہئے۔اسی طرح کارکنان بھی جو نمازوں کے اوقات میں فارغ ہیں یہاں آکر باجماعت نماز ادا کریں اور جو ڈیوٹی پر ہیں وہ ڈیوٹی ختم کر کے سب سے پہلے نماز ادا کریں۔ڈیوٹی لگانے والی انتظامیہ یا انچارج جو ہیں ان کو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ڈیوٹی بھی نمازوں کے اوقات کو سامنے رکھ کر لگائی جائے۔یہ نہ ہو کہ ڈیوٹی کی وجہ سے نماز کا وقت چلا جائے۔ایسی شفٹ ہونی چاہئے کہ بہر حال ایک شفٹ اور دوسری شفٹ کو نماز پڑھنے کا موقع مل جائے۔اگر ہماری نمازوں پر توجہ نہیں تو ہمارے سب کام بیکار ہیں۔انتظامی لحاظ سے بعض مزید باتیں بھی کہنا چاہتا ہوں۔جو لوگ اپنی گاڑیوں پر آتے ہیں وہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور جہاں اور جس طرح گاڑی پارک کرنے کے لئے کہا جائے اسی طرح کریں۔پارکنگ میں بعض دفعہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔بعض ضد کرتے ہیں اور اپنی مرضی کی پارکنگ کرنے کے لئے کارکنوں سے الجھ بھی پڑتے ہیں اس سے انتظام خراب ہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ باتیں رسک (Risk) کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔بعض پریشانیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں یا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح یہاں جلسہ گاہ کے علاوہ جو مسجد فضل میں نماز پڑھنے آتے ہیں اس بارے میں کارکنوں کو تو میں نے اتوار کو اس طرف توجہ دلا دی تھی کہ وہ ڈیوٹیاں دیں لیکن جو یہاں آنے والے شاملین ہیں اور جو مہمان ہیں جو اس علاقے میں جا کر نماز پڑھیں گے ان کو بھی یہی یا درکھنا چاہئے کہ جو مسجد فضل میں نماز پڑھنے آتے ہیں وہ بھی اپنی کاریں ایسی جگہ کھڑی کریں جہاں ہمسایوں کے راستے نہ رکیں، ان کے گھروں کے راستے نہ رکیں اور انہیں تکلیف نہ ہو۔اتوار کو میں نے کارکنوں کو بھی کہا تھا کہ ہمارے ہمسائے یہ شکایت کرتے ہیں کہ تم لوگ اپنی کاریں ہمارے گھروں کے سامنے اس طرح کھڑی کرتے ہو کہ ہمارے راستے بند ہو جاتے ہیں۔نہ ہم اپنی کار باہر نکال سکتے ہیں نہ گھر کے اندر لا سکتے ہیں۔بعض نے تو اس حد تک اظہار کیا جن کے تعلقات ہیں سال کے سال یا عیدوں پے تحفہ دینے جاتے ہیں یا جلسہ کے دنوں میں رابطہ کے لئے جاتے ہیں کہ تم کہتے ہو کہ خلافت ہماری رہنمائی کرتی ہے اور تم خلافت کی بڑی باتیں کرتے ہو کہ ہم کہا مانتے ہیں۔یا تو تمہارا خلیفہ جو ہے وہ ہمسائے کے حق کے بارے میں تمہیں بتاتا نہیں یا تم اس کی بات نہیں مانتے۔یہ ایسی بات ہے جو ہر ایک کے لئے قابل شرم ہے جو غیر ہمارے بارے میں اظہار کر رہا ہے۔مجھے تو بہر حال اس بات