خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد 16 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 المسیح الثانی نے نظام جماعت بنایا اور مضبوط کیا ہے۔اگر آپ نظام جماعت نہ بناتے تو جماعت مخالفین کے خیال میں ختم ہو جاتی۔گو کہ اللہ تعالی کی جماعت ہے یہ تو چلنی تھی اور یہ سب کچھ ہو نا تھا لیکن بہت سارے حضرت خلیفہ المسیح الثائی کی مخالفت اس لئے کرتے ہیں کہ آپ نے جماعت کو ایک مضبوط اور مربوط نظام دے دیا۔1974ء میں جیسا کہ میں نے کہا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے جو ٹیم بنائی تھی اس کا ایک حصہ تھے۔ان کو وہاں خدمت کی توفیق ملی اور یہ قصر خلافت میں ہی رہتے تھے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد شاید مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد ان کو ہفتے کے بعد گھر جانے کی اجازت ملا کرتی تھی کہ سات دن بعد ایک دو گھنٹے کے لئے گھر چلے جاتے تھے۔بچے بھی ان کو وہیں آکر ملا کرتے تھے۔یہ کہتے ہیں کہ ان ایام میں میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کئی راتیں سوئے نہیں بلکہ بیٹھے بیٹھے ہی آرام کر لیا کرتے تھے اور سارا دن اور ساری رات یا جماعت کے کاموں میں مصروف یا دعاؤں میں مصروف رہتے اور ساتھ ہی یہ لوگ بھی جو ڈیوٹی پر تھے پھر جا گا کرتے تھے۔ان کے یہ بیٹے ان کی طرف سے ایک اور روایت بیان کرتے ہیں کہ 1984ء کے پر آشوب دور میں یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی جو ٹیم تھی اس میں بھی شامل تھے۔کہتے ہیں کہ آپ بتایا کرتے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اور حضرت خلیفتہ المسیح الرابع جب بھی ہنگامی حالات تھے ، بجائے اس میں کسی قسم کا panic ہونے کے غیر معمولی طور پر ریلیکس (Relax) رہا کرتے تھے۔آپ کو یہ بھی اعزاز رہا کہ جب حضرت خلیفہ المسیح الرابح نے ہجرت کی ہے تو ربوہ سے کراچی تک آپ بھی اس قافلے میں شامل تھے۔اسی طرح 2010ء میں جب لاہور میں 128 مئی کا واقعہ ہوا ہے تو اس وقت با وجود بیماری کے ہنگامی حالات میں ایک تو یہ کہ آپ نے بڑی ہمت سے تمام معاملات کو سنبھالا۔پھر ہر شہید جس کا جنازہ آتا تھا اس کا گرمی کے باوجود خود جنازہ پڑھاتے تھے اور تدفین کے لئے جاتے تھے۔اسی طرح حفظ مراتب کا ان کو بڑا خیال تھا۔ان کے بیٹے مرزا عدیل احمد لکھتے ہیں کہ مقامی ربوہ کی رپورٹس جب ہم بھجواتے تو بعض دفعہ یا کسی دن یہ بے احتیاطی ہو گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ صرف (ص) لکھ دیا گیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ علیہ السلام پورا لکھا گیا۔اس پر آپ نے خاص طور پر توجہ دلائی کہ حفظ مراتب کا خیال رکھنا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم پورا لکھا کریں۔نمازوں کی بہت پابندی کرتے۔بہت مجبوری کی حالت میں نمازیں جمع کی جاتیں۔آخری بیماری میں بھی جب ہسپتال میں داخل تھے تو سوائے چند ایک کے ساری نمازیں اپنے وقت پر الگ الگ ادا کیں۔آخری دنوں میں ناظر اعلیٰ تھے۔اور ناظر اعلیٰ کی کافی ذمہ داری ہوتی ہے۔تو وہاں کے جو معاملات ہیں ان کے بارے میں اور جماعتی کیسز کے بارے میں بڑی فکر تھی۔ہسپتال میں بھی بار بار پوچھتے تھے کہ فلاں فلاں کیس کی کیا تاریخ ہے اور کیا اپ ڈیٹ ہے۔اسی طرح جو لوگ جو اپنی خوشیوں میں ، شادیوں کے موقعوں پر بطور ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی بلاتے تھے تو ضرور جاتے تھے کہ اب یہ میرے فرائض میں داخل ہو گیا ہے کیونکہ خلیفہ وقت کی نمائندگی کر رہا ہوں۔اسی طرح وفات وغیرہ پر بھی، غمی کے موقع پہ بھی لوگوں کے پاس جایا کرتے تھے۔پھر ضرورتمندوں کو