خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 360

خطبات مسرور جلد 16 360 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اگست 2018 اخلاق کے اعلیٰ ترین ہونے کا ذکر فرما دیا۔تو دوسری طرف مہمانوں کو بھی خاص طور پر حکم دیا کہ مہمان بن کر اپنے حق سے تجاوز نہ کرو۔مہمان کی جو حدود و قیود ہیں ان کے اندر رہنے کی ضرورت ہے۔اور مہمانوں کو بھی اپنے مہمان ہونے کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔پھر غیروں کے ساتھ مہمان نوازی کے معیار کا مقام تھا اور بلند حوصلگی کا ایک ایسا معیار کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے ، حیران رہ جاتا ہے۔اس کی مثال ہم دیکھتے ہیں جب ایک غیر مسلم مہمان بن کے آتا ہے۔آپ اس کی خاطر مدارات بھی کرتے ہیں اور صبح اٹھ کر جاتے ہوئے وہ بستر گندہ کر کے چلا جاتا ہے تو آپ خود اسے دھوتے ہیں۔صحابہ رضوان اللہ علیہم عرض کرتے ہیں کہ ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں۔ہم حاضر ہیں۔حضور کیوں تکلیف کر رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ میر ا مہمان تھا اس لئے میں ہی اس کا گند دھوؤں گا۔(ماخوذ از مثنوی مولوی معنوی دفتر پنجم صفحه 20 تا 24 مترجم قاضی سجاد حسین الفیصل ناشران لاہور 2006ء) پس یہ وہ اعلیٰ ترین اُسوہ ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہمارے جلسہ پر اپنے بھی آتے ہیں غیر بھی آتے ہیں اور سب آنے والے اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔یا دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں یا اسلام اور احمدیت کے بارے میں معلومات لینے آتے ہیں۔بشری کمزوریاں تو ہر ایک میں ہوتی ہیں۔اگر کوئی اونچ پہنچ ہو بھی جائے، کسی سے زیادتی ہو بھی جائے، تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ لوگ بد اخلاق ہیں یا ان کی نیتیں نیک نہیں ہیں۔یہ بشری کمزوریاں ہیں جس کی وجہ سے بعض دفعہ اونچ نیچ ہو جاتی ہے۔اگر ہو بھی جائے تو برداشت کرنا چاہئے۔یہ بالکل صحیح ہے کہ احمدی چاہے مہمان ہو یا میز بان اسے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔لیکن جنہوں نے اپنے آپ کو جلسہ کے مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے انہیں زیادہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔اگر کارکنوں کی طرف سے صبر اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ ہو گا تو دوسرا خود ہی شرمندہ ہو جائے گا۔پس ہر ڈیوٹی دینے والا ہر شعبہ میں جہاں وہ ڈیوٹی دے رہا ہے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے اور اسے ان دنوں میں ایک بہت بڑا چیلنج سمجھ کر اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے۔قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة:84)۔کہ لوگوں سے اچھی اور نرم بات کیا کرو۔نرمی سے بات کرو۔اچھی طرح بات کرو۔یہ وہ بنیادی چیز ہے جو جھگڑوں کو ختم کرنے اور اعلیٰ اخلاق دکھانے کے لئے ضروری ہے۔یہ اصول صرف خاص موقعوں کے لئے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے اور جب انسان کو اس کی عادت پڑ جائے تو رنجشیں اور زیادتیاں کبھی ہو ہی نہیں سکتیں۔پس میز بانوں اور مہمانوں کو یہاں بھی اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو سامنے رکھنا چاہئے اور خاص طور پر ان دنوں میں تو ضرور عمل کریں کہ اس ماحول کو خاص طور پر سب نے مل کر خوشگوار بنانا ہے تا کہ جس مقصد کے لئے یہاں جمع اس پر ہوئے ہیں وہ پورا ہو۔اور وہ ہے اپنی اخلاقی اور روحانی حالت بہتر کرنا۔اور یہی اخلاق یہاں آنے والے غیر لوگوں کو بھی اسلام کے اعلیٰ خُلق بتانے کا ذریعہ بنیں گے۔ایک خاموش تبلیغ ہے۔مہمان بھی اور کارکنان بھی یہ خاموش تبلیغ کر رہے ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میزان میں حسن خلق سے زیادہ وزن رکھنے والی کوئی چیز